کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 206

مولانا مؤی نے یہاں اس روایت کا یہ ٹکڑا اس لیے حذف کر دیا ہے کہ احناف بیس رکعتوں پر تو عامل ہیں ، مگر اس کی اس کیفیت پر عامل نہیں ہیں ۔ اور مولانا مؤی اس سے پہلے اہل حدیث کو یہ الزام دے چکے ہیں کہ یہ لوگ جس حدیث کی بنیاد پر گیارہ رکعت تراویح کے قائل ہیں ، اس حدیث میںگیارہ رکعتوں کے ادا کرنے کی جو کیفیت بیان کی گئی ہے اس پر اہل حدیث عمل نہیں کرتے ……تو اب بعینہ یہ الزام احناف پر بھی عائد ہوتا ہے اور مولانا کے پاس اس کا کوئی جواب تھا نہیں ۔اس لئے ’’جان چھڑانے ‘‘ کی اس کے سوا کوئی صورت نظر نہ آئی کہ اس ٹکڑے کو حذف ہی کر دیں ۔ ایں کار از تو آید و مرداں چنیں کنند اس روایت کی اسناد پر کلام : مولانا شوق نیموی مرحوم نے آثار السنن ص۲؍۵۴ پر تعلیق میں اس روایت کے تمام راویوں کی توثیق بیان کی ہے ۔ چنانچہ اس کے پہلے راوی ابو عبداللہ بن فنجویہ کی بابت لکھا ہے فهو من کبار المحدثین فی زمانه لا یسئل عن مثله (یہ اپنے زمانے کے بڑے محدثوں میں ہیں ۔ ان جیسوں کے متعلق یہ سوال نہیں ہو سکتا کہ وہ کیسے ہیں ) نیموی کی اس بات پر محدث مبارک پوری رحمہ اللہ نے تحفۃ الاحوذی ص۲؍۷۵ میں گرفت فرمایا اورلکھا ہے کہ مجرد کونه من کبار المحدثین لا یستلزم کونه ثقة ( یعنی صرف اتنی بات سے کہ وہ بڑے محدثوں میں ہیں ، یہ لازم نہیں کہ وہ ثقہ بھی ہوں ) اس عبارت میں مجرد کونہٖ (صرف بڑے محدث ہونے ) کا لفظ خاص طورسے قابل لحاظ تھا ۔ مگر مولانا مؤی کی دیانت دیکھیے کہ انہوں نے اس عبارت کا

  • فونٹ سائز:

    ب ب