کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 207

جو ترجمہ پیش کیا ہے ۔ اس میں اس لفظ کا ترجمہ ہی چھوڑ دیا ہے ۔ لکھتے ہیں : ’’بڑے محدث ہونے سے ثقہ ہونا لازمی نہیں آتا ‘‘۔ (رکعات ص ۴۱) بتلائیے اس ترجمہ سے ’’مجرد کونہ‘‘ کا مفہوم کس طرح اداہوتا ہے؟ یہ ’’ اختصار‘‘ صرف اس لئے فرمایا گیا ہے کہ اس ’’ تصرف ‘‘ کے بغیر ان اعتراضات کے لئے کوئی گنجائش ہی نہیں ملتی جن کو مولانا مئوی نے اس موقع پر اپنے زعم میں بڑے اہتمام و ادعا کے ساتھ پیش فرمایا ہے اس لئے کہ حدیث اور رجال پر نظر رکھنے والا کوئی اہل علم اس بات میں شک نہیں کر سکتا کہ ’’ محض بڑا محدث یا بڑا عالم ہونا ‘‘ اس کی عدالت اور ثقاہت کو مستلزم نہیں ہے ، لیکن ہمارے مولانا مئوی کے نزدیک یہ بات بڑے اچھنبے کی ہے اس لئے ان کی تسکین کے لئے چند مثالیں ہم پیش کرتے ہیں۔ حافظ ذہبی لکھتے ہیں : الحارث بن عبدالله الهمدانی الاعور من کبار علماء التابعین علٰی ضعف فیه (میزان الاعتدال ص۲۰۲ ج ۱) یعنی حارث اعور تابعین میں بڑے علماء میں سے ہیں ، مگر روایت میں ضعیف ہیں ‘‘۔ امام نووی ان کے متعلق لکھتے ہیں متفق علٰی ضعفہٖ یعنی ان کے ضعف پر سب کا اتفاق ہے (شرح مسلم ص۱۴ج۱) حافظ ذہبی نے ان کے متعلق یہ بھی لکھا ہے وکان من اوعیة العلم یعنی علم کے جامع تھے ۔۔۔۔۔۔ گویا حدیث ، فقہ ، تفسیر وغیرہ ہبت سے علوم کے اعتبار سے ان کا شمار ’’بڑے علما‘‘ میں ہے ۔ بالفاظ دیگر بڑے محدث ، بڑے فقیہ وغیرہ ہیں ، لیکن پھر بھی ثقہ نہیں بلکہ ضعیف ہیں ۔ (۲) یہی حافظ ذہبی حسن بن عمارہ کوفی کی نسبت لکھتے ہیں وکان من کبار الفقهاء فی زمانه۔ (میزان الاعتدال ص۲۳۸ ج۱) یعنی اپنے زمانے کے بڑے فقہاء میں سے ہیں لیکن روایت کے اعتبار سے بالاتفاق ضعیف اور ناقابلِ وثوق ہیں۔ جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے ۔ (۳) عبدالکریم بن ابی المخارق ابو امیہ کی بابت امام نووی لکھتے ہیں : وکان عبدالکریم هذا من فضلاء فقهاء البصرة (یعنی یہ عبدالکریم بصرہ کے فضلاء فقہاء میں سے ہیں ) لیکن ساتھ ہی یہ بھی لکھتے ہیں : وممن نص علی ضعف عبد الکریم هذا سفیان بن عیینة وعبدالرحمن بن مهدی ویحی بن سعید القطان واحمد بن حنبل وابن عدی انتهیٰ (شرح مسلم ص۱۶ ج۱) یعنی ان سب محدثین نے ان کی بصراحت تضعیف کی ہے ۔ فتح الملہم ص۲۳۶ ج۱ میں ہے : وقال ابن عبد البر مجمع علیٰ ضعفہٖ یعنی ان کے ضعف پر محدثین کا اجماع ہے ۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب