کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 212
’’محدث‘‘ثقہ بھی ہوتا ہے اور غیر ثقہ بھی ۔ مقبول بھی ہوسکتا ہے اور غیر مقبول بھی ۔ پھر اس حوالے کے پیش کرنے سے آپ کو کیا فائدہ پہونچا؟ قولہ : اور ابن الاثیر جزری نے لکھا ہے : عرف بہا ابو عبداللہ الحسین بن محمد بن الحسین بن فنجویہ . الفنجوی الدینوری الحافظ روی عن ابی الفتح محمد بن الحسین الازدی الموصلی و ابی بکر بن مالک القطعی وغیرہما روی عنہ ابو اسحاق الثعلبی فاکثر فی تفسیرہ و یذکر کثیرا فیقول اخبرنا الفنجوی ( رکعات ص ) ج : مولانا مؤی نے اس عبارت کے متعلق اپنی کتاب میں کوئی حوالہ نہیں دیا ہے کہ ابن الاثیر جزری نے یہ کہاں لکھا ہے ۔ اس لئے اولاً تو ایسی بے حوالہ بات قابلِ التفات ہی نہیں ہے اور ثانیاً محض ’’حافظ‘‘ کہنے سے ان کی توثیق لازم نہیں آتی ۔ جیسا کہ نعیم بن حماد کی بابت امام ذہبی کا بیان گذرچکا کہ انہوں نے نعیم کو حافظ کہا ہے اور اس کے باوجود ان پر جرح بھی کر دی ہے ۔ ثالثاً ان کے استاد اورکچھ شاگرد کے نام معلوم ہو جانے سے زیادہ سے زیادہ یہ ہوگاکہ ان کی ذات مجہول نہ رہے گی ، لیکن اس سے ان کی عدالت ثابت نہ ہوگی ۔ حافظ ابو بکر خطیب بغدادی لکھتے ہیں : و اقل ما تر تفع بہ الجہالة ان یروی عن الرجل اثنان فصاعداً من المشہورین بالعلم … قلت الاانہلا یثبت لہ حکم العدالة یروایتہما عنہ و قد زعم قوم ان عدالتہ تثبت بذلک و نحن نذکر فساد قولہم بمشیئة اللہ و توفیقہ انتہی (کفایہ ص۸۸)