کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 213

یعنی جس شخص سے کم از کم دو مشہور محدث روایت کریں اس کو مجہول نہیں کہا جائیگا ۔۔۔۔۔۔۔مگر اس سے اس کے لیے عدالت کا حکم ثابت نہیں ہوگا ۔ کچھ لوگوں کا یہ زعم ہے کہ اس سے اس کا عادل ہونا ثابت ہو جائیگا (مگریہ قول فاسد ہے) ہم اس کا فاسد ہونا ثابت کرتے ہیں ( اس کے بعد خطیب نے اس قول کے فاسد ہونے کے دلائل ذکر کیے ہیں ) قولہ : اور سمعانی نے برہان دینوری کے شاگردوں میں ان کا نام لیا ہے اور امام بیہقی نے سنن میں ان سے بکثرت روایت کی ہے ۔ (رکعات ص۔۔۔۔) ج: لیکن سمعانی نے ان کو نہ تو ’’ من کبار المحدثین ‘‘ کہا ہے ۔ جیسا کہ مولانا نیموی کا عویٰ ہے اور نہ ان کی عدالت و ثقاہت کی ’’عام شہرت‘‘ کو ثابت کیا ہے ۔ جیسا کہ آپ کی تمہیدکا منشاء ہے ۔ اس لئے یہ حوالہ بھی آپ کے لئے کچھ مفید نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ اسی طرح امام بیہقی نے یہ کب دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اپنی سنن میں صرف ’’ثقہ‘‘ راویوں سے روایتیں لی ہیں۔ اور صرف صحیح روایتوں کے لانے کا التزام کیا ہے ۔ جب ایسا نہیں ہے تو اس سے ابن فنجویہ کا ثقہ ہونا کیسے ثابت ہو گیا؟ ۔ قولہ :کیا ان تفصیلات کے بعد بھی کسی میں جرأت ہے جو یہ کہہ سکے کہ بڑا محدث ہونے سے ثقہ ہونا لازم نہیں آتا۔ (رکعات ص۔۔۔) ج: کیا ان بے جان تفصیلات کی حقیقت معلوم ہوجانے کے بعد بھی کسی میںجرأت ہے جویہ کہہ سکے کہ ان تفصیلات سے ابن فنجویہ کا ’’بڑا محدث ہونا‘‘ یا ان کی ثقاہت یا ثقاہت کی عام شہرت کا ثبوت ہو گیا ۔ نہیں اور ہر گز نہیں ۔ اسی

  • فونٹ سائز:

    ب ب