کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 215
اور اگر اس نکتہ آفرینی سے اہل حدیثوں کو ’’ڈرانا‘‘ مقصود ہے ، تو فکر نہ کیجئے ہم خوب سمجھ رہے ہیں کہ محدث مبارک پوری رحمہ اللہ نے ہر گز کوئی ایسا ’’اصول‘‘ نہیں پیش کیاہے جس کی وجہ سے کسی ایک حدیث سے بھی ’’ ہاتھ دھونا‘‘ پڑے ۔ قولہ : شائد مولانا اس سے بھی آگاہ نہیں تھے کہ مالک بن الحسیر الزیادی پر ابن القطان نے یہ کلام کر دیا کہ اس کی عدالت ثابت نہیں ۔ یعنی اس کو کسی نے ثقہ نہیں کہا ہے تو حافظ ذہبی نے ابن القطان کا یوں ردّ کیا کہ : فی رواۃ صحیحین عدد کثیر ما علمنا ان احد نص علی توثیقہم والجمہور علی ان من کان من المشائخ قد روی عنہ جماعۃ فلم یأت بما ینکر علیہ ان حدیثہ صحیح انتہٰی (میزان ص۳ج۳) (رکعات ص۴۵) ج: مولانا (مبارک پوری رحمہ اللہ ) توا س سے خوب آگاہ تھے ، مگر آپ ابھی تک سمجھے ہی نہیں ہیں کہ ابن القطان نے کیاکہا ہے ، اور محدث مبارک پوری نے کیا فرمایا ۔ ابن القطان کی بات حافظ ذہبی نے اسی میزان الاعتدال میں حفص بن بعیل کے ترجمہ میں زیادہ وضاحت سے پیش کی ہے ۔ لکھتے ہیں : فان ابن القطان یتکلم فی کل من لم یقل فیہ امام عاصر ذلک الرجل واخذ عمن عاصرہ ما یدل علی عدالتہ........ ’’ یعنی ابن القطان ہر اس راوی پر جرح کرتے ہیں جس کی تعدیل کسی ایسے امام نے نہ کی ہو جو اس راوی کے معاصر ہوں ، یا اس کے معاصر سے نقل کرتے ہوں ‘‘ ۔ گویا ابن القطان کے نزدیک کسی راوی کی عدالت و ثقاہت ثابت ہونے کی