کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 216

’’ یعنی کسی مبہم راوی کی حدیث تاوقتیکہ ا س کا نام نہ معلوم ہو جائے مقبول نہیں ۔ کیونکہ جب ا س کی ذات ہی نہیں معلوم ہے توا س کی عدالت کیسے معلوم ہو گی ۔ اور جب تک راوی کی عدالت نہ معلوم ہو، اس کی روایت مقبول نہیں ‘‘۔ میرا منشاء یہ نہیں ہے کہ ابن فنجویہ مبہمہ ہے ، بلکہ غرض یہ ہے کہ مبہم کی حدیث کے نامقبول ہونے کی جو علت ہے وہ یہاں بھی متحقق ہے ۔ لہٰذا اس اصول کی رو سے ابن فنجویہ کی یہ روایت مقبول نہیں ۔ کیونکہ اس کی ذات اگرچہ معلوم ہے ، مگر اس کی عدالت معلوم نہیں ۔ تقریب مع التدریب ص۱۱۵ میں

  • فونٹ سائز:

    ب ب