کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 219

یہ کہا جا سکے کہ یہ مجہول ہے ‘‘۔ اسی کے ساتھ حافظ کا یہ بیان بھی سامنے رکھئے : وقبل الخوض فیه ینبغی لکل منصف ان یعلم ان تخریج صاحب الصحیح لای راو کان مقتض لعدالته عنده وصحة ضبطه وعدم غفلته ولا سیما ما انضاف الیٰ ذالك من اطباق جمهور الائمة علی تسمیة الکتابین بالصحیحین وهٰذا معنی لم یحصل لغیر من خرج عنه فی الصحیح فهو بمثابة اطباق الجمهور علیٰ تعدیل من ذکر فیما هٰذا اذا خرج له فی الاصول ............ وقد کان الشیخ ابو الحسن المقدسی یقول فی الرجل الذی یخرج عنه فی الصحیح هذا جاز القنطرة یعنی بذالك انه لا یلتفت الٰی ما قیل فیه قال الشیخ ابو الفتح الفشیری فی مختصرہ و هکذا نعتقد وبه نقول ولا نخرح عنه الا بحجة ظاهرة وبیان شاف یزید فی غلبة الظن علٰی المعنی الذی قدمناه من اتفاق الناس بعد الشیخین علٰی تسمیة کتابیهما بالصحیحین ومن لوازم ذالك تعدیل رواتهما قلت فلا یقبل الطعن فی احد منهم الا بقادح واضح ۔ (حوالۂ مذکور) حافظ کے ان بیانات کی روشنی میں یہ بات بالکل صاف ہو جاتی ہے کہ ہر وہ راوی جس سے شیخین نے صحیحین میں احتجاجًا و اصالۃً کسی حدیث کی تخریح کی ہے وہ معروف العدالۃ ہے ۔ جمہور ائمہ مسلمین نے ان دونوں کتابوں کا ’’صحیح‘‘ ہونا تسلیم کیا ہے ۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ ان کے راویوں کی عدالت پر

  • فونٹ سائز:

    ب ب