کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 221

معرفت السنن والی روایت کی حقیقت : ۔ سنن کبریٰ کی ا س روایت کی تائید میں مولانا مئوی نے امام بیہقی کی دوسری کتاب ’’ معرفتہ السنن‘‘ سے ایک دوسرے طریق کا حوالہ دیا ہے جس کی انتہا بھی انہی یزید بن خصیفہ عن السائب بن یزید پر ہے ۔ جن سے سنن کبریٰ میں یہ اثر مروی ہے اس لئے در حقیقت یہ کوئی دوسری روایت نہیں ہے ۔ معرفتہ السنن میں یہ اثر جس طریق سے مروی ہے اس میں دو راوی ایسے ہیں جن کی عدالت و ثقاہت کا حال معلوم نہیں ہے ۔ ایک ابو طاہر زیادی ، دوسرے ابو عثمان بصری ۔ ابو طاہر زیادی کی نسبت سبکی نے امام الفقہا ء والمحدثین بنیسا بور فی زمانہ لکھا ہے جس کو مولانا مئوی نے بڑی اہمیت دی ہے ، لیکن ہم اس کی نظیریں پہلے پیش کر چکے ہیں کہ اس قسم کے الفاظ مجروح اور متکلم راویوں کے متعلق بھی استعمال کئے گئے ہیں ۔ مثلاً حارث اعور کو من کبار التابعین اور حسن بن عمارہ کو من کبار الفقہاء فی زمانہ اور نعیم بن حماد کو احد الائمۃ الاعلام حافظ ذہبی نے لکھا ہے اور عبد الکریم ابو امیہ کو من فضلا فقہاء البصرۃ امام نووی نے لکھا ہے ، لیکن کیا یہ سب ثقہ ، غیر مجروح اور غیر متکلم فیہ ہیں ؟ کسی فن کے مسائل کی معلومات میں وسعت اور مہارت کے اعتبار سے شہرت و امامت کا حاصل ہو جانا یہ ہر گز اس بات کو مستلزم نہیں ہے کہ وہ ضبط و عدالت کے اعتبار سے بھی ان جملہ شروط و اوصاف کا حامل ہے جو روایت کی مقبولیت کے لئے شرط ہیں ۔ جیسا کہ مذکورہ بالا مثالوں سے واضح ہے سبکی او رعبد الغافر نے بھی ابو طاہر کی جو تعریف کی ہے وہ تفقہ ، تحدیث ، افتاء ، عربیت وغیرہ علوم و فنون میں مہارت ہی کی کی ہے ۔ عدالت و ثقاہت کے متعلق کچھ نہیں کہا ہے ۔ اس لئے خطیب کی جو عبارت کفایہ ص۸۷ کے حوالہ سے مولانا مئوی نے اس موقع پر نقل کی ہے وہ بالکل بے محل ہے ۔ خطیب نے یہ نہیں لکھا ہے کہ جس کے افتاء و مشیخت ، تفقہ و تحدیث کی شہرت ہو وہ تعدیل و تزکیہ سے مستغنیٰ ہے ، بلکہ یہ لکھا ہے کہ ان العلم بظهور سترهما واشتهار عدالتهما اقوی فی النفوس من تعدیل واحد واثنین اس عبارت میں واشتهار عدالتهما کے لفظ پر غور کیجئے ۔ جس شاہد اور راوی کی عدالت صرف ثابت ہی نہیں بلکہ اس درجہ ثابت ہے کہ وہ ’’عام شہرت‘‘ رکھتی ہے تو اب اس کے متعلق کیا سوال ہو سکتا ہے کہ وہ ثقہ اور عادل ہے یانہیں ؟ سوال تو اس کی بابت ہوگا جس کی ’’عدالت‘‘ مشہور نہیں ۔ خواہ علم و تفقہ وغیرہ مشہور ہی کیوں نہ ہو ۔ چنانچہ اسی کفایہ میںاور اسی عبارت کے ساتھ یہ بھی لکھا ہے : والشاهد والمخبر انما یحتاجان الی التزکیه متی لم یکونا مشهوری العدالة والرضا وکان امرهما مشکلا ملتبسا و مجوزا فیه العدالة وغیرها انتهی (کفایہ ص۸۷) یعنی (شاہد وہی مقبول ہے جو بحکم ممن ترضون من الشهداء مرضے اور پسندیدہ ہو ) لہذا جس مخبر کی عدالت اور جس شاہد کا مرضی ہونا مشہور نہ ہو ،

  • فونٹ سائز:

    ب ب