کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 224

ثقہ ہے یا حافظ ہے یا ضابطہ ہے ۔ یہ سب الفاظ ’’عادل‘‘راوی کی توثیق کا موجب ہیں ۔ مولانا بحر العلوم اس کی شرح میں لکھتے ہیں : فان تلك الالفاظ لیست مبینة عن العدالة فلا بد من علمها بوجه اٰخر ۔ (مسلم الثبوت مع شرح بحر العلوم ص ۴۳۵) ’’ یعنی ان الفاظ سے راوی کی عدالت ظاہر نہیں ہوتی ۔ اس لئے عدالت کے ثبوت کے لئے کسی دوسری دلیل کا ہونا ضروری ہے ‘‘۔ ان سب کے علاوہ ایک بڑی پرلطف بات یہ ہے کہ مولانا مؤی اپنی کتاب الاعلام المرفوعہ کے ص۴ پر ابو الفتح ازدی کی نسبت لکھتے ہیں : ’’ علاوہ بریں ابو الفتح کی جرحیں بالکل ناقابل اعتبارہیں ۔ اولاً اس لئے کہ وہ خود ضعیف وصاحب مناکیر و غیر مرضی ہیں ………الخ‘‘۔ لیکن یہی ابو الفتح ہیں جن کی نسبت خطیب بغدادی نے اپنے شیخ کے حوالے سے الحافظ لکھا ہے ۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں : اخبرنا محمد بن جعفر بن علان قال انا ابو الفتح محمد بن الحسین الازدی الحافظ قال ثنا ابو عروبة الحرانی الخ ( دیکھو کفایہ ص ۹۱ ) لیجیے اب تو اسمیں کوئی شبہہ نہیں رہا کہ ’’حافظ‘‘کا لفظ راوی کی عدالت و ثقاہت کو مستلزم نہیں ہے ، بلکہ ہوسکتا ہے کہ جس کے حق میں ’’حافظ‘‘ کہا گیا ہے ، وہ بقول مولانا مؤی ’’ضعیف و صاحب منا کیر وغیر مرضی ہو ‘‘ـ۔ اب رہے ابو عثمان بصری تو ان کی نسبت اتنا معلوم ہے کہ ان کا نام عمرو بن عبداللہ ہے اس کے بعد علماء احناف اور علماء اہل حدیث سب کو تسلیم ہے کہ

  • فونٹ سائز:

    ب ب