کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 227

کیا جا سکتا ہے کہ تعد دطرق سے اس کا ضعف دور ہو گیا ۔ محدث مبارک پوری رحمۃ اللہ علیہ نے ابکار المنن کے صفحہ ۱۷۸ ، ۱۷۹ میں جس روایت کی بابت یہ قاعدہ پیش کیا ہے اس کا کوئی راوی مجہول الحال نہیں ہے ۔ اس لئے ان کے کلام کو اس موقع پر استشہادًا پیش کرنا جیسا کہ ’’علامہ‘‘ مئوی نے کیا ہے ، محض نادانی اور جہالت ہے ۔ الحاصل ان تفصیلات سے یہ بات اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ سنن کبریٰ اور معرفۃ السنن کے حوالے سے اس روایت کے جو دو طریق علماء احناف پیش کرتے ہیں ان میں سے کسی کی بھی صحت باصول محدثین ثابت نہیں ہے ۔ اس لئے سندًا یہ روایت قابل احتجاج نہیں ہے ۔اسناد پر بحث ختم کرنے کے بعد اب ہم اس کے متن (مضمون) پر تفصیلی گفتگو کرنا چاہتے ہیں ۔ اسی سلسلہ بحث میں انشاء اللہ اس حقیقت کی نقاب کشائی بھی ہو جائے گی کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے گیارہ رکعات تراویح اداکرنے کا حکم فرمایا تھا یا بیس کا ؟ فرمان فاروقی کیا تھا ؟ یہ خیال رہے کہ اس وقت زیر بحث حضرت سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں لوگ بیس رکعتیں پڑھتے تھے ۔ اسی کو مولانامئوی نے اپنے مذہب کی دوسری دلیل قرار دیا ہے ۔ یہ اثر بروایت یزید بن خصفیہ دو طرق سے مروی ہے ، لیکن ان دونوں میں سے کسی طریق میں بھی یہ صراحت نہیں ہے کہ یہ تعداد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ’’حکم‘‘ سے پڑھی جاتی تھی یا ان کو اس کی اطلاع تھی ۔ اس کے برخلاف حضرت سائب ہی کا بیان جو بروایت محمد بن یوسف منقول ہے اس کے

  • فونٹ سائز:

    ب ب