کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 228

بعض طرق میں یہ صراحت خود حدیث ہی میں موجود ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب اور تمیم داری رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو ’’حکم‘‘ دیا کہ لوگوں کوگیارہ رکعتیں پڑھائیں ۔ اور بعض طرق میں یہ بھی تصریح ہے کہ حضرت ابی اور تمیم داری لوگوں کو اسی تعداد کے مطابق پڑھاتے بھی تھے ۔ (دیکھو آثار السنن للنیموی مع التعلیقات ص ۵۲ ،۵۳ ج۲) اس فرمان فاروقی رضی اللہ عنہ کے خلاف پوری دنیائے اسلام میں ایک آواز بھی نہ اٹھی ۔ اجلّہ صحابہ رضی اللہ عنہ و تابعین رحمہ اللہ موجود تھے ، لیکن کسی نے بھی اس پر ردّ و انکار نہ کیا ۔ تو کیا یہ گیارہ رکعات کی مشروعیت پر اس وقت کے تمام صحابہ رضی اللہ عنہ و تابعین رحمہ اللہ کا اجماع نہ ہوا ؟ اور کیا اس سے گیارہ رکعات کی کوئی خصوصیت اور اہمیت ثابت نہیں ہوتی ؟ پس اس فرمان فاروقی رضی اللہ عنہ کے ہوتے ہوئے اوّلاً توہمیں یہ تسلیم ہی نہیں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں بیس پر عمل ہوا ، کیونکہ اس کے مقابلہ میں جو روایتیں پیش کی جاتی ہیں ان کی صحت ثابت نہیں جس کا بیان پچھلے صفحات میں گزر چکا ۔ ثانیًا بالفرض اگر یہ تسلیم کر لیا جائے تو پھر یہ تسلیم نہیں ہے کہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس کی اطلاع تھی ۔ اس لئے کہ حضرت سائب بن یزید کے جس بیان کو حنفیہ اپنی دلیل قرار دیتے ہیں اس میںصرف حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ’’زمانے‘‘ میں بیس پڑھی جانے کا ذکر ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ’’حکم‘‘ تو بڑی بات ہے ۔ ان کے علم و اطلاع تک اس کا میں کوئی ذکر نہیں ہے اور حضرت سائب کے بیان کے علاوہ جن روایتوں میں ’’حکم‘‘ دینے کا ذکر ہے وہ سب منقطع السند اور غیر صحیح ہیں ۔ جیسا کہ ہم آگے بتائیں گے ۔ رہا ’’علامہ‘‘ مئوی کا استدلال کہ :

  • فونٹ سائز:

    ب ب