کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 235
روایت عند المحدثین مضطرب ہوتی ہے ۔ حافظ ابن الصلاح لکھتے ہیں : المضطرب من الحدیث ہو الذی تختلف الروایة فیہ فیرویہ بعضہم علیٰ وجہ وبعضہم علیٰ وجہ اٰخر مخالف لہ وانما تسمیہ مضطربا اذا تساوت الروایات اما اذا ترجحت احداہما بحیث لا تقاومہا الاخریٰ بان یکون راویہا احفظ واکثر صحبة للمروی عنہ اوغیر ذالک من وجوہ الترجیحات المعتمدة فالحکم للراجحة ولا یطلق علیہ حینئذٍ وصف المضطرب ولا لہ حکمہ انتہیٰ (مقدمہ ص۳۵ ، ۳۶) حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فتح الباری جلد سابع ص۳۸۲ طبع مصر میں لکھتے ہیں : وہذہ عادتہ (ای عادة البخاری) فی الروایات المختلفة اذا رجح بعضہا عندہ اعتمدہ واشار الیٰ البقیة وان ذلک لا یستلزم القدح فی الروایة الرجحة لان شرط الاضطراب ان تتساوی وجوہ الاختلاف فلا یرجح شیئ منہا انتہیٰ. یہی حافظ ابن حجر رحمہ اللہ مقدمۂ فتح الباری میں لکھتے ہیں : الاختلاف علٰی الحفاظ فی الحدیث لا یوجب ان یکون مضطربا الا بشرطین احداہما استواء الوجوہ الاختلاف فمتی رجح احد الاقوال قدم ولا یعمن الصحیح بالمرجوح وثانیہما مع الاستواء ان یعتذر الجمع علیٰ قواعد المحدثین انتہٰی. ان سب عبارتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ اضطراب کے لئے شرط یہ ہے کہ وجوہ اختلاف سب برابر ہوں ۔ کسی کو کسی پر ترجیح نہ ہو اور نہ جمع و تطبیق کی صورت ممکن ہو ۔اگر ترجیح یا تطبیق ممکن ہو تو اس کو اضطراب نہیں کہتے اور نہ یہ اختلاف