کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 237

پانچوں میں سوائے امام مالک رحمہ اللہ کے کوئی دوسرایہ بیان نہیں کرتا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے گیارہ کا حکم دیا ……… امام مالک اگرچہ اما م اور حافظ ہیں ، مگر دوسرے چا رراوی بھی اہل حدیث کی تصریحات کے بموجب ثقہ اور حافظ ہیں ، بلکہ ان میں سے یحیٰ تو حافظہ ہیں امام مالک کی ٹکر کے ہیں ۔ لہٰذا ایک ثقہ حافظ کے مقابلہ میں چار ثقہ حافظوں کا بیان ترجیح پائے گا اور اس اثر سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سرے سے حکم دینا ہی ثابت نہ ہو سکے گا ۔ (رکعات ص۳۷ ، ۳۸) اس کا جواب قارئین سے ہماری درخواست ہے کہ وہ اس اختلاف کی نوعیت کو پہلے اچھی طرح سمجھ لیں ۔ اس کے بعد ہمارے جواب پر غور کریں ۔ اختلاف کی نوعیت یہ نہیں ہے کہ امام مالک رحمہ اللہ نے جو بات بیان کی ہے دوسرے روایوں نے اس کا انکار اور اس کی نفی کی ہے ۔ تاکہ دونوں میں منافات لازم آئے ، بلکہ صورت یہ ہے کہ امام مالک کی روایت میں حکم دینے کاذکر ہے اور دوسروں کی روایت میں اس کاذکر نہیں ہے ۔ بالفاظ دیگر دوسروں نے جس بات کے ذکر سے سکو ت کیا ہے ۔ (نفی نہیں کی ہے ) امام مالک کی روایت میں اس کااظہار اور بیان ظاہر ہے کہ ’’سکوت‘‘اور ’’بیان‘‘ میں کوئی منافات اور معارضہ نہیں ہے ۔ گویا امام مالک رحمہ اللہ ( جو چار مشہور اماموں میں ایک جلیل القدر ، ثقہ ، حافظ اور متقن امام ہیں ) کی روایت میں ایک ایسی ’’زیادتی ‘‘پائی جاتی ہے جو دوسرے ثقات کی روایت کے منافی اور معارض نہیں ہے اور کسی ثقہ کی ایسی ’’زیادتی‘‘ بالاتفاق محدثین مقبول و معتبر ہے۔ ایسا اختلاف ہرگز کسی قدح اور جرح کا موجب نہیں ہے ۔ حافظ ابن الصلاح

  • فونٹ سائز:

    ب ب