کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 239
رواہ غیرہ کالحدیث الذی تفرد بروایة جملتہ ثقة ولا تعرض فیہ لما رواہ الغیر لمخالفة اصلا فہذا مقبول وقد ادعی الخطیب فیہ اتفاق العلماء علیہ وسبق مثالہ فی نوع الشاذ الثالث ما یقع بین ہاتین المرتبتین مثل زیادة لفظة فی حدیث لم یذکر ہا سائر من روی ذلک الحدیث مثالہ … فاخذبہا غیر واحد من الأئمة واحتجوا بہا منہم الشافعی و احمد رضی اللہ عنہم انتہی. اس عبارت کا حاصل بھی یہی ہے کہ کسی ثقہ راوی کی زیادتی اسی صورت میں نا مقبول اور مردود ہے جب کہ وہ دوسروں کی روایت کے منافی اور معارض ہو ۔ اسی بات کو حافظ ابن حجر نے زیادہ وضاحت کے ساتھ لکھا ہے ۔ فرماتے ہیں : وزیادة اویہما ای الصحیح والحسن مقبولة ما لم تقع منافیة لروایة من ہو اوثق ممن لم یذکر تلک الزیادة لان الزیادة اما ان تکون لا تنافی بینہا وبین روایة من لم یذکرہا فہذہ تقبل مطلقاً لانہا فی حکم الحدیث المستقل الذی یتفرد بہ الثقة ولا یرویہ عن شیخہ غیرہ واما ان تکون منافیة بحیث یلزم من قبولہا رد الروایة الاخری فہذہ ہی التی یقع الترجیح بینہا وبین معارضہا فیقبل الراجح ویرد المرجوح انتہی (شرح نخبہ ص ۳۷) ۔ یعنی صحیح اور حسن حدیث کے راوی کی زیادتی جب تک دوسرے اوثق راوی کی روایت کے (جس نے یہ زیادتی ذکر نہیں کی ہے) بالکل منافی اور معارض نہ ہو ۔ مطلقاً مقبول ہے ۔ ہاں اگر ثقہ راوی کی زیادتی اوثق راوی کی روایت