کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 239

اس عبارت کا حاصل بھی یہی ہے کہ کسی ثقہ راوی کی زیادتی اسی صورت میں نا مقبول اور مردود ہے جب کہ وہ دوسروں کی روایت کے منافی اور معارض ہو ۔ اسی بات کو حافظ ابن حجر نے زیادہ وضاحت کے ساتھ لکھا ہے ۔ فرماتے ہیں : وزیادة اویهما ای الصحیح والحسن مقبولة ما لم تقع منافیة لروایة من هو اوثق ممن لم یذکر تلك الزیادة لان الزیادة اما ان تکون لا تنافی بینها وبین روایة من لم یذکرها فهذه تقبل مطلقاً لانها فی حکم الحدیث المستقل الذی یتفرد به الثقة ولا یرویه عن شیخه غیره واما ان تکون منافیة بحیث یلزم من قبولها رد الروایة الاخری فهذه هی التی یقع الترجیح بینها وبین معارضها فیقبل الراجح ویرد المرجوح انتهی (شرح نخبہ ص ۳۷) ۔ یعنی صحیح اور حسن حدیث کے راوی کی زیادتی جب تک دوسرے اوثق راوی کی روایت کے (جس نے یہ زیادتی ذکر نہیں کی ہے) بالکل منافی اور معارض نہ ہو ۔ مطلقاً مقبول ہے ۔ ہاں اگر ثقہ راوی کی زیادتی اوثق راوی کی روایت

  • فونٹ سائز:

    ب ب