کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 24

 صحابہ رضی اللہ عنہ تکبیر پڑھ رہے تھے اور بعض تلبیہ کہ رہے تھے ، مگر کوئی ان پر معترض نہ تھا ۔ یہ روایت سن کر ان کے شاگر عبداللہ بن سلمہ رضی اللہ عنہ نے افسوس کے ساتھ کہا : واﷲ لعجبًا منکم کیف لم تقولوا له ماذا رأیت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم یصنع (مسلم شریف جلد اوّل ص۴۱۶) یعنی ’’ واﷲ بڑا تعجب ہے آپ لوگوں پر کہ صرف صحابہ رضی اللہ عنہ کا عمل سن کر خاموش رہ گئے ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آپ لوگوں نے یہ کیوں نہیںپوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس میں کیا عمل ہے ؟ ‘‘ ۔ ہندوستاں کا ذی علم طبقہ مولانا سید سلیمان ندوی مرحوم کو خوب جانتا ہے اور ان کی علمی جلالت او رتاریخی بصیرت سے بھی اچھی طرح واقف ہے ۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس موقعہ پر ہم ان کی ایک تحریر کا کچھ اقتباس پیش کر دیں جس سے ہندوستان کے اہل حدیثوں کے مسلک اور ان کی اس تحریک کیاثرات اور کارناموں پر تھوڑی سی روشنی پڑتی ہے ۔ سید صاحب لکھتے ہیں :۔ ’’ اہل حدیث‘‘ کے نام سے ملک میں اس وقت بھی جو تحریک جاری ہے حقیقت کی رو سے وہ قدم نہیں ۔ صرف نقش قدم ہے۔ بہرحال اس تحریک کے جو اثرات پیدا ہوئے ہیں اور اس زمانہ سے یعنی (مولانا اسماعیل شہید کے زمانے سے ناقل) آج تک دور ادبار کی ساکن سطح میں اس سے جو جنبش ہوئی وہ بھی ہمارے لئے بجائے خود مفید اور لائق شکریہ ہے ۔ بہت سی بدعتوں کا استیصال ہوا۔ توحید کی حقیقت نکھاری گئی ۔ قرآن پاک کی تعلیم و تفہیم کا آغاز ہوا ۔ قرآن پاک سے براہ راست ہمارا رشتہ جوڑا گیا ۔ حدیث نبویؐ کی تعلیم و

  • فونٹ سائز:

    ب ب