کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 245

ثبوت بھی نہ ہو سکے گا‘‘ ۔ گیارہ کے ثبوت اور ترجیح کی دلیل اس سے بڑھ کر اور کیا چاہئیے کہ تین تین ائمہ ثقات و حفاظ اس کے راوی اور ناقل ہیں وہ ائمہ جن کی ثقاہت اورحفظ و ضبط عندالمحدثین شہرت عام رکھتی ہے اور ان کے مقابلہ میں صرف ایک شخص اکیس کا عدد بیان کرتا ہے اور وہ بھی ایسا شخص جس کے حفظ و ضبط کا ثبوت محتاجِ دلیل ہے یا کم از کم یہ کہ ان ائمہ ثقات کا مقابلہ کا نہیں ہے ۔ الغرض اس تحقیق کے بعد قواعد محدثین کے مطابق اس میں کوئی شبہ نہیں رہ جاتا کہ اس روایت میں گیارہ کا عدد ثابت اور متحقق ہے اور اس کے خلاف اکیس کا عدد ہرگز ثابت نہیں ہے ۔ مولانا مئوی یحي اور عبدالعزیز کی متابعت کے متعلق بھی ایک ’’دلچسپ اضطراب‘‘ میں مبتلا ہیں چنانچہ لکھتے ہیں : ’’یہ تینوں (یعنی امام مالک ، یحي ، عبدالعزیز) گیارہ کا لفظ بولنے میں تو بے شک متفق ہیں مگر گیارہ کے باب میں تینوں تین بات کہتے ہیں ۔ ایک کہتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے گیارہ کا حکم دیا ہے ۔ دوسرا کہتا ہے کہ ابی اور تمیم گیارہ پڑھتے تھے اور تیسرا کہتا ہے کہ ہم گیارہ پڑھتے تھے یعنی روایت کا مضمون بیان کرنے میں تینوں باہم مختلف ہیں ‘‘ ۔ (رکعات ص ۱۰ ، ۱۱) اولا میں مولانا مئوی سے یہ پوچھتا ہوں کہ جب آپ کو یہ تسلیم ہے کہ گیارہ کا لفظ بولنے میں تو بے شک تینوں متفق ہیں ‘‘ تو پھر یہ جانتے اور مانتے ہوئے آپ نے ابن عبدالبر رحمہ اللہ کے اس اعتراض کو کیوں اہمیت دی کہ ’’گیارہ کا لفظ بولنے میں امام مالک متفرد ہیں اور یہ ان کا وہم ہے ‘‘ ۔ اور اس بنیاد پر آپ نے یہ کیسے نتیجہ نکال لیا کہ ’’اس اثر سے گیارہ کا ثبوت بھی نہ ہو سکے گا‘‘ ۔ کیا ’’محدثانہ احتیاط‘‘ اور

  • فونٹ سائز:

    ب ب