کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 246

منصفانہ طرز گفتگو‘‘ اسی کا نام ہے ؟ خود رافضیحت دیگراں را نصیحت اسی کو کہتے ہیں ۔ ثانیاً آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ ہر اختلاف کو محدثین ’’اضطراب‘‘ اور حدیث کے لئے موجب قدح و ضعف قرار نہیں دیتے ۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں : فالتعلیل بجمیع ذلك من اجل مجرد الاختلاف غیر قادح اذلا یلزم من مجدد الاختلاف یوجب الضعف … (مقدمہ فتح الباری ص ۲۸ جلد ۲) حافظ کا یہ قول پہلے گذر چکا کہ اضطراب کے لئے شرط یہ ہے کہ وجوہ اختلاف برابر ہوں اور ان میں بقواعدِ محدثین و تطبیق متعذر ہو ۔ اس قاعدہ کی رو سے مذکورہ بالا تینوں باتوں میں کوئی اضطراب نہیں ہے ، بلکہ تینوں کا مضمون باہم ایک دوسرے کے ساتھ بالکل مربوط ہے اور تینوں کے ملانے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سائب نے محمد بن یوسف کے سامنے یہ تینوں باتیں کہیں تھیں ۔ اور گویا اس طرح کہی تھیں کہ حضڑت عمر رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب اور تمیم داری کو امام بنایا اور ان دونوں کو حکم دیا کہ لوگوں کو گیارہ رکعتیں پڑھائیں (ان کے حکم کے مطابق) یہ دونوں گیارہ رکعتیں پڑھاتے تھے اور ہم لوگ (ان کے پیچھے) گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے ۔ محمد بن یوسف نے اپنے شاگردوں کے سامنے سائب کی یہ تینوں باتیں بیان کیں ۔ پھر ان کے شاگردوں نے حسب موقع ان باتوں کو الگ الگ نقل کر دیا ۔ بتائیے اس میں کیا تناقض اور تضاد ہے ؟ اختلاف کی اس نوعیت کو چھوڑ کر آپ مطلقاً لفظی اختلافات کو اہمیت دیں گے اور کسی بات کے ذکر اور اس کے عدم ذکر کو بہر صورت ’’اضطراب‘‘

  • فونٹ سائز:

    ب ب