کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 247
قرار دیں گے تو یاد رکھئے کہ اس کا اختلاف تو حضرت سائب کے دوسرے شاگرد یزید بن خصیفہ کے شاگردوں میں بھی موجود ہے ۔ حالانکہ انکے متعلق آپ کا دعویٰ یہ ہے کہ ’’اس کے رواۃ میںکوئی ادنی اختلاف بھی نہیں ہے ‘‘ ۔ اور یزید کے دونوں شاگرد متفق اللفظ ہو کر یزید سے اور یزید حضرت سائب سے روایت کرتے ہیں کہ لوگ عہد فاروقی میں بیس پڑھتے تھے (رکعات ص ۴۰ ، ۴۱) ۔ ’’متفق اللفظ‘‘ ہوکر اور ’’ادنی اختلاف بھی نہیں ‘‘ کے ادعائی مبالغہ کو سامنے رکھیے اور یزید بن خصیفہ کے شاگردوں کی روایتوں کے مندرجہ ذیل الفاظ پر غور کیجئے ۔ یزید بن خصیفہ کے ایک شاگرد ابن ابی ذئب کا بیان یہ ہے : عن یزید بن خصیفة عن السائب بن یزید قال کانوا یقومون علی عہد عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ فی شہر رمضان بعشرین رکعة قال و کانوا یقرؤن بالمئین وکانوا یتوکؤن علی عصیہمفی عہد عثمان بن عفان من شدة القیام رواہ البیہقی ج ۲ ص ۴۹۶ ۔ اور یزید کے دوسرے شاگرد محمد بن جعفر کا بیان یہ ہے : حدثنی یزید بن خصیفة عن السائب بن یزید قال کنا نقوم فی زمان عمر بن الخطاب بعشرین رکعة والوتر انتہی (تعلیق اثار السنن ص ۵۴ ج ۲) سرسری نگاہ ڈالنے سے بھی دونوں روایتوں کے الفاظ اور مضامین کا فرق نمایاں ہو جاتا ہے مثلاً (۱) ایک کہتا ہے ’’لوگ بیس پڑھتے تھے ‘‘ (اپنا کیا عمل تھا اس کا کوئی ذکر نہیں ) (۲) دوسرا کہتا ہے ’’ہم بیس پڑھتے تھے‘‘ (دوسرے لوگوں کا کیا عمل تھا اس کا