کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 249
یہ وہی معرفۃ السنن ہے جس کا حوالہ مولانا مئوی نے اپنے مذہب کی دوسری دلیل کے سلسلہ میں دیا ہے ۔ جس روایت میں سند کا یہ سلسلہ ہو وہ باصول محدثین راجح ہو گی اس روایت پر جو اس سے خالی ہو ۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ان ما احتف بالقرائن ارجح مما خلا عنہا والخبر المحتف بالقرائن انواع منہا ما اخرجہ الشیخان فی صحیحیہما … الی ان قال ومنہا المسلسل بالائمة الحافظ المتقنین حیث لا یکون غریباً کالحدیث الذی یرویہ احمد بن حنبل مثلا ویشارکہ فیہ غیرہ عن الشافعی و یشارکہ فیہہ غیرہ عن مالک بن انس فانہ یفید العلم عند سامعہ بالاستدلال من جہتم جلالة وراتہ وان فیہم من الصفات الائقة الموجبة للقبول ما یقوم مقام العدد لکثیر من غیرہم (شرح نخبہ ص ۱۷ تا ۲۱) یعنی جو حدیث محتف بالقرائن (قرائن سے گھر ہوئی) اس کو اس حدیث پر ترجیح ہو گی جو ان قرائن سے خالی ہو ۔ حدیث محتف بالقرائن کی چند قسمیں ہیں ۔ انہیں میں سے وہ حدیث ہے جس کو شیخین (امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ ) نے اپنی اپنی صحیح میں روایت کیا ہو … اور انہیں میں سے وہ حدیث ہے جس کی سند میں مسلسل ائمہ حفاظ ہوں ۔ بشرطیکہ وہ غیریب نہ ہو جیسے وہ حدیث جس کو مثلاً امام احمد بن حنبل امام شافعی سے روایت کریں اور کوئی دوسرا بھی اس میں ان کے ساتھ شریک ہو ۔ اسی طرح امام شافعی مالک سے روایت کریں تو اسناد کا یہ سلسلہ حدیث کے مضمون کے متعلق یقین پیدا کرے گا، کیونکہ اس کے راویوں کی جلالتِ شان اور ان میں