کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 25

 تدریس او رتالیف واشاعت کی کوششیں کامیاب ہوئیں اور دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ ساری دنیائے اسلام میں ہندوستان ہی کو صرف اس تحریک کی بدولت یہ دولت نصیب ہوئی ۔ نیز فقہ کے بہت سے مسئلوں کی چھان بین ہوئی (یہ اور بات ہے کہ کچھ لوگوں سے غلطیاں بھی ہوئی ہوں) لیکن سب سے بڑی بات یہ کہ دلوں سے اتباع نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا جو جذبہ گم ہو گیا تھا وہ سالہا سال تک کے لئے دوبارہ پیدا ہو گیا ہے ، مگر افسوس ہے کہ اب وہ بھی جا رہا ہے‘‘ (مقدمہ تراجم علماء حدیث ہند) ۔ یہ ہیں وہ اہل حدیث جن کو مؤلف ’’ رکعات ‘‘ نے بار بار ’’ فرقہ اہل حدیث ‘‘ کہہ کر اپنی کدورت ِ قلبی کا ثبوت دیا ہے ۔ اس اقتباس کو پڑھئیے اور دیکھئیے کہ ’’ صرف اس تحریک کی بدولت ‘‘ ہندوستان کو دین کی کیا کیا نعمتیں ملیں ۔ وہ نعمتیں جن سے ساری دنیائے اسلام محروم تھی اور آخر میں ’ سب سے بڑی بات یہ بتائی گئی کہ سنت نبویؐ کی اتباع کا جو جذبہ گم ہو گیا تھا وہ اسی تحریک کی بدولت دوبارہ پیدا ہوا ۔ پس ایک ایسی جماعت جو اتباع سنتِ نبوی ؐ (علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والتحیۃ ) کے جذبے سے سرشار ہو اور یہ اسکا ایک امتیازی وصف بن گیا ہو اس کے مقابلے میں یہ کہنا کہ ’’ تراویح کی آٹھ رکعتوں پر جمہور کا عمل نہیں ہے ‘‘ یقینا کج بحثی ہے ۔ وہ تو اتنا جانتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر عمل کیا ہے اس کے بعد اس کے نزدیک اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ دوسروں نے اس پر عمل کیا ہے یا نہیں ما عا شقیم بے دل دلدار ما محمد ما بلبلانِ نالاں گلزارِ ما محمد

  • فونٹ سائز:

    ب ب