کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 250

ان صفات کا تحقق جو حدیث کی قبولیت کا باعث ہیں دوسروں کے مقابلے میں عدد کثیر کے قام مقام ہے ‘‘ ۔ غور کیجئے حافظ رحمہ اللہ نے مسلسل بالائمہ کی جو مثال دی ہے اس میں اور گیارہ والی زیر بحث روایت کے سلسلہ اسناد میں صرف اتنا ہی فرق ہے کہ اس (گیارہ والی) میں امام احمد رحمہ اللہ کا نام نہیں ہے ۔ باقی امام شافعی اور امام مالک ان دونوں اماموں کے اسمائے گرامی اس کی سند میں موجود ہیں اور دوسروں کی شرکعت و متابعت کے ساتھ موجود ہیں گویا مسلسل بالائمہ والی حدیث کی ترجیح کے جو وجوہ حافظ نے بیان کئے ہیں وہ مکمل طور پر نہیں تو بڑی حد تک گیارہ والی زیر بحث روایت میں متحقق ہیں ۔ اس کے بر خلاف اکیس والی اور تیرہ والی روایتیں ان وجوہ سے یکسر خالی ہیں ۔ اس لئے اصولاً گیارہ ہی والی روایت راجح اور مقبول ہو گی اور اس کے مقابلہ میں اکیس والی اور تیرہ والی روایتیں مرجوح اور غیر مقبول ہو گی ۔ فائدہ : محدث اعظم مبارک پوری رحمہ اللہ نے تحفت الاحوذی میں اکیس کی روایت کے مرجوح ہونے کی ایک وجہ یہ بتائی ہے کہ اس روایت کو تنہا عبدالرزاق اپنی کتاب میںلائے ہیں ۔ ان کے سوا کوئی دوسرا اس کو بیان نہیں کرتا ۔ وہ اگرچہ ثقہ حافظ ہیں لیکن آخر عمر میں وہ نابینا ہو گئے تھے ۔ ان کے حافظہ میں فرق آ گیا تھا کما صرح به الحافظ فی التقریب دوسری طرف ان کے مقابل گیارہ کے راوی امام مالک رحمہ اللہ ہیں جن کی شان میں حافظ نے لکھا ہے امام دار الهجرة رأس المتقنین کبیر المتثبتین جن کی سند کو امام بخاری جیسے ناقد حدیث نے تمام دنیا کی اسانید میں اصح اور اعلی کہا ہے (قال البخاری اصح الاسانید کلها مالك عن نافع عن ابن عمر کذا فی التقریب) پھر وہ عبدالرزاق کی طرح اس لفظ کی روایت میں متفرد بھی نہیں ہیں ،

  • فونٹ سائز:

    ب ب