کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 257

لمبی رکعتوں کا لحاظ کیا تو کل تعداد گیارہ بتائی ۔ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بھی لوگوں نے یہی صورت اختیار کی ہو ۔ اس لئے حضرت سائب نے رکعتوں کی تعداد کبھی تیرہ بتائی اور کبھی گیارہ ۔ اس توجیہ میں کوئی تکلف نہیں ہے اور اس کی بنیاد سراسر روایات صحیحہ پر ہے اسی لئے محدث مبارک پوری نے گیارہ اور تیرہ کے اختلاف کو کالعدم قرار دیا ہے اور یہ توجیہہ چونکہ تحفت الاحوذی میں بسلسلہ حدیث عائشہ رضی اللہ عنہ ما کان یزید فی رمضان الخ گذر چکی تھی اس لئے اس موقع پر دوبارہ اس کے ذکر کی ضرورت نہیں سمجھی گئی ۔ فاندفع ماتوھم ورودہ ۔ مولانا مئوی کے دعوے کی حقیقت : اب ہم آپ کو مئوی صاحب کے اس دعوے کی حقیقت بتاتے ہیں کہ ’’اگلے محدثین میں کسی ایک محدث سے بھی ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ اس نے تیرہ اور اکیس کے مقابل میں گیارہ کو ترجیح دی ہے‘‘ ۔ یہ صرف ایک مغالطہ ہے جو عوام کی ناواقفیت سے فائدہ اٹھانے کے لئے پیش کیا گیا ہے ورنہ جب یہ معلوم ہو چکا کہ اگلے محدثین کو یہ تسلیم ہے کہ گیارہ کا عمل فعل نبویؐ سے ماخوذ ہے اور اکیس کے لئے کوئی ایسا ماخذ نہیں ہے تو آپ سے آپ اکیس پر گیارہ کی ترجیح ثابت ہو جاتی ہے ۔ اس کے بعد اس کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی کہ کسی محدث سے نصاً اس کی ترجیح ثابت کی جائے ۔ تاہم عوام کو جو مغالطہ دیا گیا ہے اس کے ازالے کے لئے ہم اس کا ثبوت بھی دیتے ہیں ۔ سنیئے : علامہ سبکی لکھتے ہیں : قال الجوزی من اصحابنا عن مالك انه قال الذی جمع علیه الناس عمر بن الخطاب احب الی وهو احدی عشر رکعة وهی صلوة رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم قیل له احدی عشرة رکعة بالوتر قال نعم و ثلاث عشرةقریب قال ولا ادری من این احدث هذا لرکوع الکثیر انتهی (المصابیح ص ۸)

  • فونٹ سائز:

    ب ب