کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 26

ندورۃ المصنفین دہلی ، دیوبندی مکتب ِ فکر کے علماء کا ایک علمی ادارہے اس کے ماہنامہ ’’برہان‘‘ بابت اگست ۹۵۸؁۱ء کے شمارہ میں مولانا مناظر حسن گیلانی کی ایک مضمون شائع ہوا ہے ۔ اس میں مولانا گیلانی ایک جگہ تحریک اہل حدیث کی بابت لکھتے ہیں :۔ ’’ بجائے خود یہ تحریک جو کچھ بھی ہو ، لیکن اس کو تسلیم کرنا چاہئیے کہ اپنے دین کے اساسی سرچشموں (قرآن و حدیث) کی طرف توجہ ہندوستان کے حنفی مسلمانوں کی جوپلٹی اس میں اہل حدیث اور غیر مقلدیت کی اس تحریک کو بھی دخل ہے عمومیت تو غیر مقلد نہیں ہوئی ، لیکن تقلید جامد اور کورانہ اعتماد کا طلسم ضرور ٹوٹا ‘‘ ۔ ص۹ مولانا گیلانی اہل حدیث کے متعصب مخالفین میں سے ہیں ۔ اس لئے ان کی یہ شہادت یقینا الفضل ما شہدت بہ الاعداء کی مصداق ہے ۔ مولانا گیلانی کی اس شہادت کی روشنی میں مولانا مئوی کو سوچنا چاہئیے کہ جس تحریک نے ہندوستان کے حنفی مسلمانوں کی توجہ کو اللہ کی کتاب اور اس کے رسول علیہ السلام کی سنت کی طرف پلٹایا ہے کیا اس کے حاملین کو زید و بکر کی باتوں سے مرعوب کیا جا سکتا ہے ؟ کلاَّ ثم کلاَّ ۔ آٹھ رکعات کا ثبوت اب موقع آ گیا ہے کہ ہم آپ کو یہ بتائیں کہ اہل حدیث تراویح کی آٹھ ہی رکعتوں کو کیوں سنت نبویؐ سمجھتے ہیں ؟ یہیں سے اس بحث کا آغازی بھی ہو جائے گا جس کو مؤلف ِ ’’ رکعات‘‘ نے اصل بحث قرار دیا ہے ۔ اہل حدیث اپنے

  • فونٹ سائز:

    ب ب