کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 263

مدعا کے خلاف ہے ۔ (تفصیل آگے آ رہی ہے ) ۔ اس کے بعد میری گذارش یہ ہے کہ جب ’’بیہقی اور ابن حبیب نے جو کچھ لکھا ہے وہ احتمال عقلی کی بنیاد پر نہیں ہے ، بلکہ واقعات کی بنیاد پر ہے اور جس کو انہوں نے واقعہ بتایا ہے وہی واقعہ ہے ‘‘ …… تو اب بیہقی اور ابن حبیب کی ان ادھوری نہیں بلکہ پوری عبارتوں کو سامنے رکھ کر غور کیجئے کہ انہوں نے صرف اتنا ہی نہیں لکھا ہے کہ عہد فاروقی میں گیارہ پر عمل پہلے ہوا اور بیس پر بعد میں ، بلکہ اسی کے ساتھ کچھ اور باتیں بھی لکھی ہیں وہ سب بھی واقعات ہی کی بنیاد پر ہیں یا صرف وہی بات جو آپ کے مطلب کے موافق ہے ؟ مثلاً بیہقی نے لکھا ہے : روایة احدی عشرة موافقة لروایة عائشة فی عدد قیامه صلی اللہ علیہ وسلم فی رمضان وغیره وکان عمر امر بهذا لعدد زمانا رای بهذا العدد الهاثور عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم وهو احدی عشرة یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق جو گیارہ کی روایت ہے یہ حضرت عائشہ کی اس روایت کے موافق ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز شب (تراویح اور تہجد) کی تعداد گیارہ ہی رکعات بتائی گئی ہے اسی تعداد کے مطابق حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی پہلے لوگوں کو تراویح پڑھنے کا حکم دیا تھا الخ ۔ بیہقی کے اس بیان سے دو فائدے حاصل ہوتے ہیں ایک یہ کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تراویح کی رکعات کا گیارہ ہونا ثابت ہے ۔ دوسرا یہ کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے گیارہ رکعت پڑھنے کا جو حکم دیا تھا وہ اسی حدیث کے مطابق تھا ۔ پھر یہ سب کچھ جانتے ہوئے آپ نے یہ کیسے لکھا ہے کہ : ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے گیارہ رکعت تراویح کسی صحیح حدیث سے ثابت

  • فونٹ سائز:

    ب ب