کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 264

نہیں ہے …… لہذا پہلے اس کو ثابت کیجئے اس کے بعد گیارہ پر عمل کو اس کے مطابق کہیے‘‘ (رکعات ص ۵۵) جان بوجھ کر ایسے مغالطوں کا مقصد سوا اس کے اور کیا ہو سکتا ہے کہ عوام کی نا واقفیت سے ناجائز فائدہ اٹھایا جائے ؟ اسی مغالطے کی گنجائش نکالنے کے لئے تو آپ نے بیہقی کی اس عبارت کو ادھوری نقل کیا ہے ؟ کیا یہ حرکت آپ کی شان تقدس کے منافی نہیں ہے ؟ اسی طرح ابن حبیب نے لکھا ہے کہ ’’تراویح پہلے گیارہ رکعت تھی ، مگر لوگ اس میں قرأت لمبی کرتے تھے جب یہ ان پر گراں ہوئی تو ان لوگوں نے رکعات کی تعداد بڑھا دی اور قرأت میں تخفیف کر دی ۔ وتر کے علاوہ بیس پڑھتے تھے ثم خففوا القرأة وجعلوا عدد رکعتها ستاو ثلثین و مضی الامر علی ذلك یعنی پھر قرأت میں اور تخفیف کیا تو رکعات کی تعداد بھی بڑھا کر چھتیس کر دیا اور اسی چھتیس پر عمل جاری رہا ۔ ابن حبیب کے اس بیان سے بھی دو فائدے حاصل ہوتے ہیں ایک یہ کہ عہد فاروقی میں گیارہ کے عدد پر رکعات کا جو اضافہ ہوا ہے وہ تخفیف قرأت کے عوض میں ہے ۔ دوسرا یہ کہ مستقل اور آخری عمل چھتیس کا ہے ۔ بیس کا نہیں ۔ جیسے مولانا مئوی کا دعوی ہے ۔ اسی واسطے مولانا مئوی نے ابن حبیب کی عبارت کا یہ حصہ نقل کرنے سے گریز کیاہے ۔ اب ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ ان دونوں باتوں میں سے کون صحیح ہے ’’واقعات کی بنیاد پر‘‘ آخری عمل بیس کا ہے یا چھتیس کا ؟ ؎ کس کا یقین کیجئے کس کا یقین نہ کیجئے لائے ہیں بزم دوست سے یار خبر الگ الگ

  • فونٹ سائز:

    ب ب