کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 265
ان ضمنی گذارشات کے بعد اصل مقصد کی طرف رجوع کرتا ہوں تنقیح طلب دو سوال : بیہقی اور ابن حبیب دونوں کے بیانوں سے یہ بات تو متفقہ طور پر ثابت ہوتی ہے کہ عہد فاروقی میں بھی پہلے عمل گیارہ ہی پر ہوا ۔ اس کے بعد رکعتوں میں اضافہ کیا گیا ۔ اب یہاں تنقیح طلب دو سوال ہیں ۱۔ ایک یہ کہ گیارہ پر جب عمل ہوا تو اس کا سبب اور داعی کیا تھا ؟ اور یہ عدد پہلے کیوں اختیار کیا گیا ؟ ۲۔ دوسرا یہ کہ جب رکعتوں میں اضافہ کیا گیا اور بیس یا چھتیس پر عمل ہونے لگا تو اس کا سبب اور داعی کیا ہوا ؟ پہلے سوال کے جواب کے لئے ان عبارتوں کو سامنے رکھیے جو ابھی چند صفحے پہلے (ابن اسحق کی ترجیح پر بحث کے ذیل میں ) باجی ، ملا علی قاری ، سیوطی اور بیہقی کے حوالے سے ہم نقل کر چکے ہیں ۔ ان سب حضرات نے بالاتفاق یہ تسلیم کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز شب (تراویح اور تہجد) کی تعداد گیارہ تھی ۔ اس کے بارے میں تو کسی نے کوئی ادنی شبہ بھی ظاہر نہیں کیا ہے ۔ یہ بھی ان سب کو تسلیم ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی پہلے گیارہ کا حکم دیا تھا ۔ رہا یہ سوال کہ پہلے گیارہ ہی کا حکم انہوں نے کیوں دیا اور یہ عدد پہلے کیوں اختیار کیا ؟ تو اس کے بارے میں باجی ؔ نے لکھا ہے لعل عمر اخذ ذلک من صلوة النبی صلی اللہ علیہ وسلم (شاید حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے اخذ کیا ) ۔ ملا علی قاری نے لکھا ہے : لعلہم فی بعض اللیالی قصدوا التشبیہ بہ صلی اللہ علیہ وسلم (شاید ان لوگوں نے کچھ راتوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تشبیہ کا ارادہ کیا) سیوطی نے لکھا ہے کان عمر لما امر بالتراویح اقتصرا ولا علی العدد الذی صلہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم (جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو تراویح پڑھنے کا حکم دیا تو پہلے اسی عدد کو اختیار کیا جس کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا ہے ) ۔ بیہقی نے لکھا ہے وکان عمر امر بہذا لعدد زمانا (حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پہلے کچھ دنوں تک اسی عدد کے مطابق حکم دیا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے) علامہ ابن ابی جمرۃ الاندلسی المتوفی ۶۷۹ ھ نے لکھا ہے : انہ اقتدی فی ذلک التحدید بما روتہ عائشة رضی اللہ عنہا ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لم یزد فی تنفلہ فی رمضان ولا غیرہ علی احدی عشرة رکعة (بہجۃ النفوس شرح مختصر بخاری ص ۷ جلد ۲)