کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 266

یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تراویح کے لئے جو گیارہ رکعتوں کی تحدید کی تھی تو اس حکم میں انہوں نے اس روایت کی اقتدا کی تھی جو حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے ۔ یعنی علامہ باجی اور ملا علی قاری نے احتمالاً اور حافظ سیوطی اور امام بیہقی اور علامہ ابن ابی جمرۃ اندلسی نے جزماً لکھا ہے کہ گیارہ کا عدد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پہلے اس لئے اختیار کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عدد بھی گیارہ ہی تھا ۔ اب دوسرے سوال کو لیجئے یعنی یہ کہ گیارہ پر رکعتوں کا جو اضافہ ہوا تو اس کا سبب کیا تھا ؟ اس کے جواب کے لئے سب سے پہلے ابن حبیب کی اسی عبارت پرغور کیجئے جس کو خود مولانا مئوی نے (تھوڑی سی خیانت کے ساتھ) پیش کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ گیارہ رکعت پڑھنے میں قرأت لمبی کی جاتی تھی یہ بات لوگوں پر گراں ہوئی تو قرأت کی مقدار کم کر دی گئی اور اس کے عوض میں رکعتوں کی تعداد بڑھا دی گئی ۔ گیارہ سے بڑھا کر بیس کی گئی ۔ یہ بھی گراں ہوئی تو قرأت کی مقدار اور گھٹائی گئی اور رکعتوں کی تعداد بیس سے چھتیس کر دی گئی ۔ آخر

  • فونٹ سائز:

    ب ب