کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 27

 مسلک کے ثبوت میں تین حدیثیں پیش کرتے ہیں ۔ پہلی حدیث عن ابی سلمة بن عبدالرحمٰن انه سأل عائشة کیف کانت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم فی رمضان فقالت ما کان رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم زید فی رمضان ولا فی غیره علی احدی عشرة رکعة یصلی اربعًا فلا تسأل عن حسنهن وطولهن ثم یصلی اربعًا فلا سأل عن حسنهن وطولهن ثم یصلی ثلاثا ۔ الحدیث (بخاری شریف جلد اوّل ص ۱۵۴ ، ۲۶۹ و مسلم شریف جلد اوّل ص ۲۵۴) ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں رات کی نماز یعنی (تراویح ) کیسے پڑھتے تھے ؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاہے رمضان کا مہینہ ہو یا غیر رمضان کا گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے ۔ چار رکعت پڑھتے ان کی خوبی اور لمبائی نہ پوچھو اس کے بعد پھر چار رکعت پڑھتے ان کی خوبی اور لمبائی کا حال نہ پوچھو پھر تین رکعت وتر پڑھتے (کل گیارہ رکعتیں ہوئیں ) ۔ دوسری حدیث عن جابر بن عبداﷲ قال صلی بنا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم فی شهر رمضان ثمان رکعات ثم اوتر فلما کانت القابلة اجتمعنا فی المسجد جابر رضی اللہ تعالیٰ نے بیان کیاکہ رسول اللہ نے ہم لوگوں کو رمضان کے مہینے میں (تراویح کی نماز) آٹھ رکعات پڑھائیں ۔ اس کے بعد وتر ورجونا ان یخرج فلم یخرج فلم نزل فیه حتیٰ اصبحنا ثم دخلنا فقلنا یا رسول اﷲ اجتمعنا البارحة فی المسجد ورجونا ان تصلی بنا فقال انی خشیت ان یکتب علیکم ـ رواه ابن حبان و ابن خزیمة فی صحیحهما والطبرانی فی الصغیر ص۱۰۸ ومحمد بن نصر المروزی فی قیام اللیل ص۹۰)

  • فونٹ سائز:

    ب ب