کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 271
مرسل روایتوں کا جواب مولانا مئوی نے حنفی مذہب کی دوسری دلیل کی تائید میں کچھ ’’مرسل‘‘ روایتں پیش کی ہیں اب ہم ان کے اس استدلال کی بھی نقاب کشائی کر دینا چاہتے ہیں ۔ حسب سابق یہاں بھی ان کی باتوں کے لئے قولہ اور اپنے جواب کے لئے ج کا عنوان اختیار کیا گیا ہے ۔ قولہ : حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں تراویح کی بیس رکعتوں پر عمل کا ثبوت تنہا سائب ہی کی روایت سے نہیں ہوتا بلکہ اس کے علاوہ متعدد روایات سے ہوتا ہے ۔ از انجملہ یزید بن رومان کی روایت سے … جس کے الفاظ یہ ہیں … یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں لوگ تیئس رکعتیں (مع وتر) پڑھتے تھے ۔ اس روایت پر اعتراض ہے کہ یزید بن رومان نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ۔ اس لئے منقطع ہے ۔ اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ یہ اثر امام مالک کی موطا میں منقول ہے اور حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ نے حجۃ اللہ البالغہ ج ۱ جلد ۱۰۶ میں فرمایا ہے : قال الشافعی اصح الکتب بعد کتاب اللہ مؤطا مالک واتفق اہل الحدیث علی ان جمیع مافیہ صحیح علی رأی مالک ومن وافقہ واما علی رأی غیرہ فلیس فیہ مرسل ولا منقطع الاقد اتصل السند بہ من طرق اخر فلا  جرم انہا صحیحة من ہذا الوجہ وقد صنف فی زمان مالک مؤطات کثیرة فی تخریج احادیثہ مثل کتاب ابن ابی ذئب وابن عیینہة والثوری و معمر (رکعات ص ۶۳) ۔ ج : شاہ صاحب کی اس عبارت میں ’’ہل رای مالک ومن وافقہ‘‘ اور ’’من ہذا الوجہ‘‘ کے فقرے خاص طور پرقابل توجہ ہیں ۔ شاہ صاحب نے یہ نہیں لکھا ہے کہ مؤطا میں جتنی روایتں ہیں وہ سب کی سب واقع میں اور تمام محدثین کے نزدیک صحیح ہیں بلکہ یہ لکھا ہے کہ امام مالک رحمہ اللہ اور ان کے مقلدین کی رائے میں صحیح ہیں ۔ لہذا یہ قول ہم ’’غیر مقلدوں‘‘ پر حجت نہیں ہو سکتا ۔ نیز مؤطا کی مرسل اور منقطع روایتوں کی بابت شاہ صاحب نے یہ لکھا ہے کہ دوسرے طریق سے اس کی سند یں متصل ہیں اور اس ’’اعتبار‘‘ سے وہ صحیح ہیں یعنی ان کا متصل ہونا صحیح ہے ، لیکن حدیث اور اصولِ حدیث کا ایک مبتدی طالب علم بھی جانتا ہے کہ صرف ’’اتصال‘‘ ثابت ہو جانے سے کسی روایت کا ’’صحیح‘‘ اور مقبول ہونا لازم نہیں آتا ۔ کتنی ہی روایتں ہیں جو ’’متصل‘‘ ہیں ، مگر ضعیف اور مردود ہیں