کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 273
لہذا اس اعتراض کے جواب میں مجمل اور مبہم طور پر محض اتنا کہہ دینے سے جان نہیں چھوٹ سکتی کہ ’’دوسرے طریق سے مؤطا کی منقطع روایتوں کا اتصال ثابت ہے ‘‘ ۔ بلکہ اتصال کے ساتھ اس کی صحت کو بھی ثابت کرنا ہو گا۔ کیونکہ محدثین ہی کے بیان کے مطابق مؤطا کی بلاغات میں غیر صحیح روائیتں بھی ہیں چنانچہ مولانا بشیر احمد عثمانی مقدمہ فتح الملہم ص ۴۹ میں لکھتے ہیں : واما قول الامام الشافعی ما علی وجہ الارض بعد کتاب اللہ اصح من کتاب مالک فانہ کانا قبل وجود کتابیہما (ای کتاب محمد بن اسماعیل البخاری و کتاب مسلم بن الحجاج النیسابوری) واما قول بعضہم ان مالکا اول من صنف فی الصحیح فہوم مسلم غیر انہ لم یقتصر فی کتابہ علیہ بل ادخل فیہ المرسل والمنقطع والبلاغات ومن بلاغاتہ احادیث لا تعرف کما ذکرہ الحافظ بن عبدالبر فہو لم یجرد الصحیح ...... قال المحافظ ابن حجر ان کتاب مالک صحیح عندہ وعند من یقلدہ علی اقتضاہ نظرہ من الاحتجاج بالمرسل والمنقطع وغیرہما لا علی الشرط الذی تقدم التعریف بہ .....قال ابن حزم وفی المؤطا نیف و سبعون حدیثا قد ترک مالک نفسہ العمل بہا و فیہا احادیث ضعیفة وہاہا جمہور العلماء انتہی ملخصا. یعنی امام شافعی نے جو یہ فرمایا ہے کہ روئے زمین پر کتاب اللہ کے بعد مؤطا مالک سے بڑھ کر کوئی صحیح کتاب موجود نہیں ہے تو یہ امام بخاری اور امام مسلم کی صحیحن کے وجود میں آنے سے پہلے کی بات ہے ۔ بعض محدثین کا یہ کہنا بھی تسلیم ہے کہ