کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 276

سے انہوں نے اپنی کتابوں میں روایت لی ہے وہ ثقہ ہے ۔ بالفاظ دیگر مولانا عثمانی کے بیان کے مطابق امام مالک رحمہ اللہ کے کلام کا مدلول یہ نہیں ہے کہ مؤطا کا ہر راوی ثقہ ہے ۔ ظاہر ہے کہ جب اس کے ہر راوی کا ثقہ ہونا متحقق نہیں ہے تو اس کی ہر روایت کا صحیح اور حجت ہونا کیسے متحقق ہو گا ؟ پس یزید بن رومان کا یہ اثر ہو ، یا اس قسم کے دوسرے آثار ہوں ، ازروئے تحقیق ان میں سے کوئی بھی قابل اعتماد نہیں تاوقتیکہ ان کے تمام راوی اور ان راویوں کی عدالت و ثقاہت کا حال ہم کو معلوم نہ ہو جائے۔ حافظ خطیب بغدادی لکھتے ہیں : والذی یدل علی ذلك ان ارسال الحدیث یؤدی الی الجهل بعین روایه ویستحیل العلم بعد الته مع الجهل بعینه وقد بینا من قبل انه لا یجوز قبول الخبر الا ممن عرفت عدالته فوجب لذلك کونه غیر مقبول انتهی (کفایہ ص ۳۸۷) ۔ قولہ : دوسرا جواب یہ ہے کہ مرسل کے قبول و عدم قبول میں ائمہ کا اختلاف ہے امام مالک رحمہ اللہ اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک وہ مطلقاً قبول ہے … اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک اگرچہ مرسل مقبول نہیں ہے مگر وہ بھی تصریح فرماتے ہیں کہ جب کسی مرسل کی تائید کسی دوسرے مسند یا مرسل سے ہوتی ہو تو مقبول ہے ۔ چنانچہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ شرح نخبہ میں فرماتے ہیں ………رکعات ص ۴۶) ج : صرف امام شافعی ہی نہیں بلکہ جمہور محدثین اور اکثر ائمہ کا مذہب یہی ہے کہ مرسل حدیث مقبول نہیں ہے وہی خطیب بغدادی جن کی ناقص عبارت آپ نے حاشیہ میں نقل کی ہے اسی عبارت کے ساتھ لکھتے ہیں : وقال محمد بن ادریس الشافعی وغیره من اهل العلم لا یجب العمل به وعلی ذلك اکثر من الائمة من حفاظ الحدیث و نقاد الاثر (کفایہ ص ۳۸۴)

  • فونٹ سائز:

    ب ب