کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 277
حافظ ابن صلاح لکھتے ہیں : وما ذکرنا من سقوط الاحتجاج بالمرسل ولحکم بضعفہ ہوالذی استقر علیہ اراء جماہیر حفاظ الحدیث و نقاد الاثر (مقدمہ ص ۲۱) حافظ زین الدین عراقی لکھتے ہیں : وذہب اکثر اہلحدیث الی ان المرسل ضعیف لا یحتج بہ (فتح المغیث للعراقی ص ۶۹) تقریب للنووی اور تدریب للسیوطی میں ہے : ثم المرسل حدیث لا یجتح بہ عند جماہیر المحدثین والشافعی (تدریب ص ۶۶) امام ترمذی فرماتے ہیں : قال ابوعیسی والحدیث اذ کان مرسلا فانہ لا یصح عند الثر اہل الحدیث قد ضعفہ غیر واحد منہم انتہی (کتاب العمل ص ۲۴۵) الحاصل اکثر محدثین کے نزدیک صحیح مسلک یہی ہے کہ مرسل روایت ضعیف اور نا قابل احتجاج ہے ۔ امام شافعی چند شرطوں کے ساتھ اس کو مقبول کہتے ہیں ۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے نخبہ میں (جو اصولِ حدیث کی مختصر کتاب ہے)ان شرطوں کو بہت اختصار کے ساتھ ذکر کیا ہے ۔ مولانا مئوی نے اس اختصار سے ناجائز