کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 280

ان میں سے کوئی مرسل بھی ایسا نہیں ہے جو کبار تابعین سے مروی ہو ۔ اس لئے یہ سب مراسیل مردود اور ناقابل حجت ہیں ۔ یزید بن رومان کے متعلق حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تقریب التہذیب ص ۳۹۷ میں لکھتے ہیں : ثقۃ من الخامسۃ یعنی ثقہ ہے اور پانچویں طبقہ میں سے ہے ۔ پانچویں طبقہ کی بابت حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ہی اسی تقریب کے شروع میں لکھتے ہیں : الخامسة الطبقة الصغری منهم یعنی پانچواں طبقہ صغار تابعین کا طبقہ ہے ۔ قولہ : از انجملہ عبدالعزیز بن رفیع کا اثر ہے … یہ اثر بھی مرسل ہے مگر چونکہ یزید بن رومان کا مؤید ہے اس لئے اس کا مرسل ہونا مضر نہیں ہے۔ جیسا کہ امام شافعی رحمہ اللہ کی تصریح سے ثابت ہو چکا ہے (رکعات ص ۶۵) ج : یہ دوسرا اثر ہے جو مولانا مئوی نے پیش کیا ہے ، لیکن امام شافعی رحمہ اللہ کی تصریح کی رو سے تب بھی مقبول نہیں ہے کیونکہ عبدالعزیز بن رفیع بھی کبار تابعین سے نہیں ہیں ۔ ان کی بابت حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں : ثقۃ من الرابعۃ (تقریب ص ۲۴۱) یعنی یہ چوتھے طبقہ کے راوی ہیں اور چوتھا طبقہ وہ ہے جو تابعین کے طبقہ وسطی کے قریب ہے جن کی اکثر روایتیں کبار تابعین سے لی گئی ہیں ، صحابہ رضی اللہ عنہ سے نہیں ۔ (دیکھو تقریب ص ۳) قولہ : از انجملہ یحي بن سعید انصاری کا اثر ہے … یہ بھی مرسل ہے مگر چونکہ مؤید ہے اس لئے کوئی مضائقہ نہیں (رکعات ص =) ج : یہ تیسرا اثر مولانا مئوی نے پیش کیا ہے ، لیکن یہ بھی مردود ہے اور اس سے یزید بن رومان کے اثر کو کوئی قوت نہیں پہنچے گی کیونکہ یحی بن سعید انصاری بھی کبار تابعین رحمہ اللہ سے نہیں ہیں ۔ حافظ ابن حجر ان کی بابت لکھتے ہیں : ثقۃ من الخامسة (تقریب ۳۹۱) یعنی پانچوں طبقہ کے راوی ہیں اور پانچویں طبقہ کے متعلق گذر چکا ہے کہ یہ صغار تابعین کا طبقہ ہے ۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب