کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 281

قولہ : از انجملہ خود حضرت ابی کی روایت ہے … اس روایت کی اسناد کا حال معلوم نہیں ، مگر چونکہ یہ یزید بن رومان کے اثر کی مؤید ہے اس لئے اگر ضعیف الاسناد بھی ہو تو کچھ ہرج نہیں ۔ (رکعات ص=) ج : ضعیف الاسناد ہی کیا ۔ اگر موضوع بھی ہو تو کچھ حرج نہیں اس لئے کہ حنفی مذہب کی تائید میں ایک دلیل کی تعداد تو بڑھ جائے گی ؟ آخر جب سند کا حال معلوم نہیں ہے تو سب اس کا اقل درجہ ضعیف الاسناد ہی ہونے کا آپ نے کیوں فرض کر لیا ؟ اس کے موضوع ہونے کا احتمال کیوں غلط ہے ؟ مولانا مئوی کے انصاف و دیانت کا یہ تماشا بھی دیدنی ہے کہ جلسہ واحدہ میں تین طلاق کے مسئلہ پر بحث کے سلسلے میں اہل حدیث عالم نے ایک روایت پیش کی تو اس کی بابت مولانا نے بڑے معصومانہ انداز میں فرمایا کہ ہمارے مخالفین جب اپنے کسی دعوے کے ثبوت میں کوئی روایت پیش کرتے ہیں تو شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ کسی روایت سے استدلال اسی وقت صحیح ہو سکتا ہے جب کہ وہ صحیح بھی ہو ۔ لہذا پیش کردہ روایت کی نسبت کسی محدث کی تصحیح یا کم از کم کتب رجال سے اسناد کے راویوں کی توثیق نقل کرنا ضروری ہے … پس مخالفین سے میرا مطالبہ یہ ہے کہ کم از کم اس روایت کے رجال کی توثیق پیش کریں (الاعلام المرفوعہ ص ۲۴) لیکن جب اپنا مطلب آ پڑا تو خود بھی اسی ’’بھول‘‘ میں مبتلا ہو گئے جس کا الزام و ہ دوسروں کو دے رہے تھے ۔ لہذا انہیں کے بتائے ہوئے اصول کے مطابق ان سے میرا مطالبہ یہ ہے کہ اس روایت کی نسبت کسی معتبر محدث کی

  • فونٹ سائز:

    ب ب