کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 282

تصحیح یا کتب رجال سے اس کے اسناد کی توثیق پیش کریں ۔ قولہ : از انجملہ محمد بن کعب قرظی کا اثر ہے … یہ اثر بھی مرسل ہے (کعات ص۶۶) ۔ ج : لیکن محمد بن کعب قرظی بھی کبار تابعین سے نہیں ہیں اس لئے یہ اثر بھی بے اثر ہے ۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ان کے متعلق لکھتے ہیں ثقة عالم من الثالثة (تقریب ص ۳۳۶) یعنی ثقہ ہیں ، عالم ہیں تیسرے طبقے کے ہیں اور تیسرا طبقہ تابعین متوسطین کا طبقہ ہے (دیکھو تقریب ص ۶۶) ۔ قولہ : اعمش نے کہا کہ حضرت ابن مسعود وتر کے علاوہ بیس رکعتیں پڑھتے تھے (رکعات صفحہ =) ۔ ج : اعمش بھی کبار تابعین سے نہیں ہیں ۔ حافظ ان کی بابت لکھتے ہیں من الخامسة (تقریب ص ۱۶۰) یعنی یہ پانچویں طبقہ کے ہیں اور پانچواں طبقہ صغار تابعین کا ہے ۔ اس لئے یہ مرسل بھی کالعدم ہے ۔ قولہ : بہر حال یہ سارے مرسل یزید بن رومان کے مرسل کے مؤید ہیں اور یہ تو کل پانچ مرسل ہیں ۔ اگر ایک بھی ہوتا تو امام شافعی رحمہ اللہ کی تصریح کے بموجب یزید کا مرسل مقبول اور قابلِ احتجاج ہوتا … اس حالت میں بھی اگر کوئی شخص اس کو مرسل کہہ کے ناقابلِ استدلال ظاہر کرتا ہے تو بڑا شرمناک تعصب اور خلافِ دیانت بات ہے ۔ (رکعات ص ۱۷۶) ۔ ج : جی نہیں امام شافعی رحمہ اللہ کی تصریح کے بموجب تو نہ یزید کا مرسل مقبول اور قابلِ احتجاج ہے اور نہ یہ ’’سارے مرسل‘‘ اس کی تائید و تقویت کا باعث ہیں اور یہ تو آپ نے ’’کل پانچ‘‘ ہی مرسل پیش کئے ہیں ایسے ایسے پچاس مرسل بھی اگر

  • فونٹ سائز:

    ب ب