کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 284
جمہور محدثین کے نزدیک ’’مرسل‘‘ وہ حدیث ہے جس میں تابعی رحمہ اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی قول یا فعل یا تقریر کو بیان کیا ہو اور ان روایتوں میں سے کسی روایت میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر کے کوئی بات نہیں بیان کی گئی ہے ، بلکہ ان سب روایتوں میں صحابہ اور تابعین کے فعل کا بیان ہے اور صحابی کے قول یا فعل یا تقریر کو ’’موقوف‘‘ کہتے ہیں خواہ وہ متصل ہو یا منقطع ۔ حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: (والثانی) وہو ما سقط عن اخرہ من بعد التابعی (ہو المرسل) و صورتہ ان یقول التابعی سواء کان کبیرا او صغیرا قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وعلی الہ و صحبہ وسلم کذا او فعل کذا او فعل بحضرتہ کذا و تحو ذلک ۔ (شرح نخبہ ص ۵۰) حافظ عراقی لکھتے ہیں : اختلف فی حد الحدیث المرسل فالمشہور انہ ما رفعہ التابعی الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم الخ (فتح المغیث ص ۶۷) کشف الاسرار علی اصول البزدوی ص ۲ جلد ۳ میں ہے : الارسال خلاف التقیید لغة ..... وہو فی اصطلاح المحدثین ان یترک التابعی الواسطة التی بینہ وبین الرسول علیہ السلام فیقول قال رسول اللہ علیہ السلام کذا انتہی ظفر الامانی ص ۱۹۱ میں ہے : القول الرابع انہ مرفوع التابعی صغیرا کان او کبیرا اوہوالمشہور بین ائمة الحدیث انتہی امام نووی لکھتے ہیں واما الموقوف فما اضیف الی الصحابی قولاً لہ او فعلاً او نحوہ ستصلا کان او منقطعا.....واما المرسل فہو عند الفقہاء واصحاب الاموال والخطیب الحافظ ابی بکر البغدادی و جماعة من المحدثین ما انقطع اسنادہ علی ای وجہ کان انقطاعہ فہو عندہم بمعنی المنقطع وقال جماعات من المحدثین او اکثرہم لا یسمی مرسلا الاما اخبر فیہ التابعی عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انتہی ۔(مقدمہ شرح مسلم ص ۱۷)