کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 285
امام شافعی فرماتے ہیں : المنقطع مختلف فمن شاہد اصحاب رسول اللہ من التابعین فحدث حدیثا منقطعا عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم اعتبر علیہ بامور الخ (الرسالہ بشرح احمد محمد شاکر ص ۴۶۱) غور کیجئے یہ عبارتیں صاف اس بات پر دلالت کر رہی ہیں کہ اکثر محدثین کی معروف اصطلاح کی رو سے ’’مرسل‘‘ وہ حدیث ہے جس میں تابعی رحمہ اللہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی بات منسوب کرے ۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے اگرچہ اس کو ’’منقطع‘‘ میں داخل کیا ہے مگر بہر حال اسی ’’مرفوع منقطع‘‘ کی مقبولیت کے لئے انہوں نے اپنے مخصوص شرائط بیان کئے ہیں ۔ ’’موقوف منقطع‘‘ کے لئے نہیں ۔ لہذا آثار مذکورہ (جو سب کے سب موقوف منقطع ہیں) کی بابت امام شافعی رحمہ اللہ کی ’’تصریح‘‘ کا بار بار حوالہ دینا بالکل بے محل بلکہ بے خبری کی بات ہے ۔ ان کی ’’تصریح‘‘ کے بموجب ‘‘ تو ان میں سے ایک بھی مقبول اور قابل حجت نہیں ہے خواہ وہ یزید بن رومان کا اثر ہو یا دوسرے آثار کیونکہ امام شافعی رحمہ اللہ کی بیان کردہ شرطوں کا تعلق اس نوعیت کی روایات کے ساتھ ہے ہی نہیں ۔