کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 287

کیا ہے وہ ’’کلام‘‘ ان کا نہیں ہے وہ تو محض ناقل ہیں ۔ ’’کلام‘‘ تو امیرالمؤمنین فی الحدیث بخاری کا ہے ۔ یحي بن معین کا ہے ۔ جن کو آپ نے بھی اپنے مطلب کے موقع پر امامِ فنِ جرح و تعدیل تسلیم کیا ہے ۔ (دیکھو رکعات ص ۲۷) امام نسائی رحمہ اللہ کا ہے ابن عدی رحمہ اللہ کا ہے ابو حاتم کا ہے حافظ ابن حجر کا ہے ۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ کا ہے اور ایک سند کے متعلق تو خود بیہقی کا ہے ۔ فرمایئے ! کیا ان اکابر اور نقاد کا ’’کلام‘‘ بھی کوئی وزن نہیں رکھتا ؟ ہاں ! ذرا یہ بھی بتاتے جائیے کہ بیہقی تو تسلیم کرتے ہیں کہ حدیث عائشہ (ما کان یزید فی رمضان الخ) کا تعلق تروایح سے بھی ہے (حوالہ گذر چکا) مگر آپ کو اس سے انکار ہے ۔ نیز بیہقی اور ابن تیمیہ دونوں مانتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے تراویح کی گیارہ رکعتیں ثابت ہیں (اس کا بھی حوالہ گذر چکا ) مگر آپ کو اس سے انکار ہے ۔ تو کیا ان باتوں کے متعلق بیہقی اور ابن تیمیہ کے مقابلے میں آپ کا کلام کوئی وزن رکھتا ہے ؟ ان سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ کے علامہ شوق نیموی نے بھی ان آثار کی سندوں پر وہی کلام کیا ہے جو حافظ صاحب غازی پوری نے کیا ہے اور ان کا کوئی جواب نہیں دیا ہے ۔ تو بتائیے بیہقی اور ابن تیمیہ کے مقابل میں نیموی کا بھی یہ کلام کوئی وزن رکھتا ہے یا نہیں ؟ سنن بیہقی کے حوالے سے مولانا مئوی نے جو سب سے پہلی روایت پیش کی ہے اس کی اسناد کا زیر بحث سلسلہ یہ ہے : حماد بن شعیب عن عطاء بن السائب عن ابی عبدالرحمن السلمی عن علی رضی الله عنه قال دعا القراء فی رمضان الحدیث اس روایت میں حماد بن شعیب اور ان کے استاد عطاء بن السائب دونوں مجروح اور متکلم فیہ راوی ہیں ۔ چنانچہ حماد بن شعیب کی نسبت حافظ ذہبی لکھتے ہیں … یعنی حماد بن شعیب حمانی کوفی ابوالزبیر وغیرہ سے روایت کرتے ہیں ۔ یحي بن معین نے ان کو ضعیف کہا ہے اور یحي بن معین نے ایک بار یہ بھی کہا ہے کہ یہ اس قابل بھی نہیں ہیں کہ ان کی حدیث لکھی جائے اور امام بخاری رحمہ اللہ نے ان کے حق میں فیه نظر کہا ہے ۔ اور نسائی نے بھی ان کو ضعیف کہا ہے اور ابن عدی نے کہا کہ ان کی اکثر حدیثیں اس قسم کی ہوتی ہیں جن پر ان کی کوئی متابعت نہیں کرتا اور ابو حاتم نے کہا کہ یہ قوی نہیں ہیں ‘‘ ۔ (میزان الاعتدال ص ۲۷۹ ج ۱ طبع مصر) ۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب