کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 288

عطا بن سائب کی نسبت حافظ ذہبی نے جو کچھ لکھا ہے اس کا خلاصہ ترجمہ یہ ہے ۔ عطاء بن سائب کو فی علماء تابعین میں سے ایک عالم ہیں ۔ آخر میں ان کے حافظہ میں تغیر آگیا تھا اور حافظہ بگڑ گیا تھا ۔ امام احمد بن حنبل نے کہا جن راویوں نے ان سے قبل میں حدیث سنی وہ صحیح ہے اور جنہوں نے بعد میں سنی وہ کچھ نہیں ہے ۔ احمد بن ابی خیثمہ نے یحي سے نقل کیا کہ شعبہ اور سفیان نے عطاء سے جو سنا ہے وہ ٹھیک ہے اس کے سوا عطاء بن سائب کی سب حدیث ضعیف ہے ۔ یحي بن سعید نے کہا کہ حماد بن زید نے بھی عطاء سے ان کے حافظہ کے تغیر سے پہلے سنا ہے ۔ امام بخاری نے کہا کہ عطاء بن سائب کی قدیم حدیثیں صحیح ہیں ۔ ابو حاتم نے کہا کہ عطاء حافظہ کے تغیر سے پہلے سچائی کے محل تھے ۔ نسائی نے کہا عطاء اپنی قدیم حدیثوں کے بارے میں ثقہ ہیں ۔ کیونکہ بعد میں ان کے حافظہ میں تغیر آ گیا تھا۔ شعبہ اور سفیان ثوری اور حماد بن زید نے عطاء سے جو حدیثیں روایت کی ہیں

  • فونٹ سائز:

    ب ب