کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 291

مصنف ابن ابی شیبہ میں منقول ہے ۔ رہا اس کا وہ طریق جو بیہقی میں مروی ہے تو اس کی بابت حافظ صاحب لکھتے ہیں کہ : اس روایت کا جواب تو خود اسی روایت کے آخرمیں مذکور ہے کہ فی ہذاالاسنادضعف یعنی اس روایت کی سند ضعیف ہے اس کے ضعف کے چند وجوہ ہیں ازانجملہ ایک وجہ یہ ہے کہ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابو سعد بقال ہیں اور وہ اس درجے ضعیف ہیں کہ امام ذہبی فرماتے ہیں کہ میرے علم میں کسی نے بھی ان کی توثیق نہیں کی ہے و معہذا یہ مدلس بھی ہیں اور یہ روایت انہوں نے عن کے ساتھ کی ہے اور جب راوی مدلس عنعنہ کرے یعنی عن کے ساتھ روایت کرے تو اس کی وہ روایت صحیح نہیں ہوتی ۔ اگرچہ وہ راوی ثقہ ہی کیوں نہ ہو ۔ تو جب وہ راوی غیر ثقہ ہو جیسے ابو سعد بقال تو اس کی روایت کیونکر صحیح ہو گی یعنی اس کی تو بطریق اولی صحیح نہ ہو گی ۔ الحاصل یہ روایت بھی صحیح نہ نکلی … ازانجملہ ایک وجہ یہ ہے کہ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابوالحسناء بھی ہیں جو ابو سعد بقال مذکور کے شیخ ہیں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس اثر کے روایت کرنے والے قرار دیئے گئے ہیں ان ابوالحسناء میں جو کلام ہے رسالہ میں مفصل مذکور ہو چکا ہے ‘‘ ۔ (رکعات التراویح طبع کلکتہ ص ۲۹ ، ۳۰) ۔ مولانا مئوی کی نتقیدیں اور ان کا جواب : حافظ صاحب کے ان جوابوں پر مولانا مئوی نے جو تنقید کی ہیں اب ہم آپ کے سامنے ان کی ایک ایک تنقید اور اس کا جواب عرض کرتے ہیں : قولہ : حافظ صاحب نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اثر بروایت ابوالحسناء پر جو

  • فونٹ سائز:

    ب ب