کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 293

’’یعنی معاصر کا عنعنہ سماع پر محمول ہوتا ہے غیر معاصر کا نہیں اس کا عنعنہ تو مرسل یا منقطع ہو گا ۔ لہذا کسی راوی کے عنعنہ کو سماع پر محمول کرنے کے لئے معاصرت کا ثبوت شرط ہے ۔ ہاں اگر راوی مدلس ہو تو (معاصرت کے ثبوت کے باوجود) اس کا عنعنہ سماع پر محمول نہیں ہو گا‘‘ ۔ اس عبارت کا لفظ ثبوت المعاصرۃ (معاصرت کا ثبوت شرط ہے) اچھی طرح یاد رکھیے گا ۔ اسی سلسلے میں حافظ رحمہ اللہ ہی کی ایک اور عبارت آپ کے سامنے رکھتا ہوں ۔ لکھتے ہیں : ومن المهم فی ذلك عند المحدثین معرفة طبقات الرواة وفائدته الا من من تداخل المشتبهین وامکان الاطلاع علی تبیین التدلیس والوقوف علی حقیقة المراد من العنعنة (شرح نخبہ ص ۱۰۹)

  • فونٹ سائز:

    ب ب