کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 295

العین) تدلیس کے عیب سے بری ہو ۔ یہی بات تدریب مع التقریب میں بھی ہے (دیکھو ص ۷۳ ، ۷۴) ۔ اگر اصول کی یہ باتیں ذہن نشین ہو گئی ہوں تو اب سنیئے کہ جب آپ پورے جزم و یقین کے ساتھ یہ دعوی کرتے ہیں کہ ’’ابو سعد بقال کی متابعت عمرو بن قیس نے کی ‘‘ ۔ تو اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ یہ بھی دعوی کر رہے ہیں کہ ابو سعید بقال اور عمرو بن قیس دونوں ابوالحسناء کے معاصر ہیں اور یہ روایت ان دونوں نے بلا ارسال و انقطاع کے براہ راست ابوالحسنا سے لی ہے ۔ لیکن کیا ان دعووں میں سے کوئی ایک دعوی بھی آپ رجال کی کتابوں سے ثابت کر سکتے ہیں ؟ اور ایک آپ کیا ، میں تو کہتا ہوں اگر سارے علماء احناف مل کر بھی زور لگائیں تو ان دعووں کا ثبوت رجال کی کتابوں سے نا ممکن ہے ۔ اس لئے کہ رجال کی تمام متداول کتابیں کھنگال ڈالئے آپ کوکہیں بھی کسی ایسے راوی کا کوئی تذکرہ نہیں ملے گا جس کا نام یا کنیت ابوالحسنائء ہو اور ا س کے استاذ حضرت علی اور شاگرد ابو سعد بقال اور عمرو بن قیس ہوں ۔ پس جب اس ابوالحسناء کا کچھ پتہ ہی نہیں ہے کہ یہ کون ہے ؟ کس زمانے میں ہوا ہے ؟ کس طبقے کا راوی ہے ؟ کس سے اس کی ملاقات ہے اور کس سے نہیں ہے ؟ کون اس کے استاذ ہیں ؟ اور کون شاگرد ہیں ؟ الغرض کتب رجال سے نہ اس کی شخصیت کا کچھ پتہ ہے اور نہ حالات کا ۔ تو اب محض (من ابی الحسنائ) کہنے سے نہ اس کی شخصیت متعین ہوتی ہے اور نہ کسی کے ساتھ اس کی معاصرت ثابت ہو سکتی ہے اور جب معاصرت ہی ثابت نہیں تو پھر ملاقات اور حدیث کا سماع اور روایت تو محض خواب و خیال کی باتیں ہیں ۔ ہاں ’’عن‘‘ میں احتمال معاصرت اور امکان لقاء کی گنجائش ہے ، مگر حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے قول کے بموجب

  • فونٹ سائز:

    ب ب