کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 296

صرف احتمال اور امکان کافی نہیں بلکہ معاصرت کا ’’ثبوت‘‘ شرط ہے اور حافظ ابن الصلاح کے قول کے بموجب تو ملاقات کا ثبوت بھی شرط ہے اور یہاں جب معاصرت ہی ثابت نہیں ہے تو ملاقات کے ثبوت کا کیا سوال؟ اور ابو سعد بقال تو مدلس بھی ہے ۔ اس لئے اس کا عنعنہ تو کسی حال میں بھی سماع پرمحمول نہیں ہو سکتا ۔ عمرو بن قیس اگرچہ مدلس نہیں ہے ، مگر ابوالحسناء کے ساتھ اس کی معاصرت بھی ثابت نہیں ہے اور جب تک معاصرت ثابت نہ ہو جائے اصولِ حدیث کی رو سے اس کا عنعنہ بھی اتصال و سماع پر محمول نہیں ہو سکتا اور جب راوی اور مروی عنہ کے مابین اتصال ہی ثابت نہ ہو تو متابعت کہاں سے ثابت ہو گی ؟ لہذا یہ دعوی اصولاً قطعاً غلط اور نرا تحکم ہے کہ ’’عمرو بن قیس نے ابو سعد بقال کی متابعت کی ہے‘‘ ۔ پہلے ابو سعد بقال اور عمرو بن قیس اور ابوالحسناء ان تینوں کی معاصرت تو ثابت کیجئے ؟ غالباً اب آپ کی سمجھ میں آ گیا ہو گا کہ حافظ صاحب مرحوم نے اس ’’متابعت‘‘ کو کیوں قابل اعتنا نہیں سمجھا ۔ وکم من عائب قولا صحیحا و ا فته من الفهم السقیم (فائدہ) یہ گفتگو چونکہ عمرو بن قیس کی ’’متابعت‘‘ کے سلسلے میں تھی اس لئے اب تک جو کچھ ہم نے عرض کیا ہے اس کا تعلق ابو الحسناء کے مزعوم ’شاگردوں‘ سے تھا اب ہم اس کی بھی تحقیق کرنا چاہتے ہیں کہ ابو الحسناء نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جو اثر نقل کیا ہے تو کیا ابوالحسناء اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ملاقات یا کم ازکم معاصرت ہی ثابت ہے ؟ اس کے متعلق بھی سب سے پہلے قابل غور سلسلہ اسناد کے یہ الفاظ ہیں عن ابی الحسناء ان علیا امر یعنی یہ روایت لفظ ’’ان‘‘ کا بھی وہی حکم ہے جو عن کا ہے ۔ حافظ ابن الصلاح لکھتے ہیں : اختلفوا فی قول الراوی ان فلانا قال کذا و کذا هل هو بمنزلة عن فی الحمل علی الاتصال اذا ثبت التلاقی بینهما حتی یتبین فیه الانقطاع مثاله مالك عن الزهری ان سعید بن المسیب قال کذا افر وینا عن مالك انه کان یری عن فلان وان فلانا سواء وعن احمد بن حنبل انهما لیسا سوا ، وحکی ابن عبدالبر عن جمهور اهل العلم ان عن و ان سواء وانه لا اعتبار بالحروف والالفاظ وانها هو باللقاء والمجالسة والسماع بعضهم من بعض صحیحا کان حدیث بعضهم عن بعض بان لفظ و رد محمولاً علی الاتصال حتی یتبین فیه انقطاع انتهی (مقدمہ النوع الحادی عشر ص ۲۴) ۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب