کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 298

اور نہ کسی واضح دلیل سے انقطاع ثابت ہو ۔ اس قاعدہ کی رو سے زیر بحث اثر میں ’’ان علینا‘‘ کے لفظ کو اتصال پر محمول کرنا اسی وقت صحیح ہو گا جب کہ کسی معتبردلیل سے ابوالحسناء اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی باہمی ملاقات اور سماع کا ثبوت ہو جائے (یا جمہور کے قول کے مطابق کم از کم معاصرت ہی ثابت ہو جائے ) اور یہ ثبوت نا ممکن ہے اس لئے کہ تاریخ رجال کی کتابوں میں کہیں ایسے ابوالحسناء کا کوئی ذکر نہیں ملتا جس سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ملاقات ہوئی ہو یا کم سے کم یہ کہ ان کا ہم عصر ہو ۔ ظاہر ہے کہ جب معاصرت ہی ثابت نہیں ہے تو ملاقات اور سماع و روایت کا کیا ذکر ۔ پس حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس اثر کے ضعیف اور نا قابل اعتماد ہونے کی یہ ایک دوسری وجہ ہوئی ۔ لہذا اس اثر کو اصولاً صحیح اور مقبول قرار دینا غلط اور قواعد و اصول سے بے خبری کی دلیل ہے ۔ قولہ : حافظ صاحب کا دوسرا کلام ابوالحسناء پر ہے لکھا ہے … ’’یہ ابوالحسناء مجہول بھی ہیں ‘‘ حافظ صاحب کی یہ بات بھی ویسی ہی ہے ۔ ان کو معلوم ہے کہ دو شخصوں کی روایت کے بعد کوئی راوی مجہول نہیں رہ سکتا ۔ لہذا جب ابوالحسناء سے ابو سعد اور عمرو بن قیس دو شخص روایت کرتے ہیں تو وہ مجہول کہاں ہوا ۔ اس کو مستور کہئے … رکعات ص ۷۸) ۔ ج : آپ کو بھی معلوم ہے کہ ابوالحسناء سے ابو سعد اور عمرو بن قیس دونوں کی روایتیں لفظ ’’عن‘‘ کے ساتھ ہیں ۔ اور ابھی ہم نے بتا دیا کہ از روئے اصول یہ لفظ اتصا ل پر اس وقت محمول ہو گا جب کہ راوی اور مروی عنہ کے مابین ملاقات یا کم از کم معاصرت ثابت ہو ۔ اور یہ بات یہاں مفقود ہے لہذا ابوالحسنا سے ابو سعد اور عمرو

  • فونٹ سائز:

    ب ب