کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 30

 سے نہ تقریر سے ۔ اس لئے اہل حدیث اس کو ’’ سنت ‘‘ نہیں سمجھتے ، لیکن چونکہ تراویح نفلی نماز ہے اس لئے اہل حدیث یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص آٹھ رکعتوں کی بابت ’’ سنت نبوی‘‘ ہونے کاانکار نہ کرے اور قربت و ثواب کی زیادتی کا شوق رکھتا ہو تو اپنی طاقت کے مطابق نفلی طور پر مزید جتنی رکعتیں چاہے پڑھے ۔ جماعت سے پڑھے یا انفرادًا ۔ سب صورتیں بلا کراہت جائز ہیں ۔ تراویح کی رک عات کی تعین ویسی نہیں ہے جیسی فرض نمازوں کی رکعات کی کہ کمی زیادتی کی گنجائش ہی نہ ہو ۔ اس کی تفصیل آئندہ آئے گی ۔ انشا ء اللہ مذکورہ بالا حدیثوں سے تراویح کی آٹھ رکعتوں کا ’’ سنت نبوی ‘‘ ہونا ثابت ہے یا نہیں ؟ اس کے متعلق ہم خود اکابر علمائے حنفیہ ہی کی شہادت پہلے آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں ۔ علما ء حنفیہ کی شہادت (۱) امام محمد رحمہ اللہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے اعاظم تلامذہ میں سے ہیں اور ایوان حنفیت کے صدر نشیں ہیں ۔ فقہ حنفی جن ائمہ کے تفقہ اور اجتہادات کے مجموعے کا نام ہے ۔ ان میں امام محمد رحمہ اللہ ایک بلند شان رکھتے ہیں ۔ ان ہی کی کتابوں سے آج حنفیت زندہ ہے ۔ ان کی روایت اور نسبت سے جو ’’ موطا‘‘ معروف ہے اس میں ایک عنوان ہے ۔ باب قیام شہر رمضان وما فیہ من الفضل اس کے محشی (مولانا عبد الحئ لکھنوی رحمہ اللہ ) نے قیام شہر رمضان پر حاشیہ لکھ کربتایا ہے ویسمی التراویح یعنی قیام شہر رمضان ہی کا نام تراویح ہے ۔ امام محمد رحمۃ اللہ علیہ اس باب کے ذیل میں سب سے پہلے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی وہ روایت لائے ہیں جس میں تین روز تک آنحضورؐ کی تراویح باجماعت کا ذکر ہے لیکن چونکہ اس میں رکعات کی تعداد کابیان نہیں ہے ۔ اس لئے اس کے

  • فونٹ سائز:

    ب ب