کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 300

قولہ : اگر کوئی کہے کہ علامہ شوق نیموی نے ابوالحسناء کی نسبت لا یعرف (یعنی وہ معلوم و مشہور نہیں ہے) لکھا ہے تو عرض ہے کہ اس لفظ نے خود ہی ابوالحسناء کے دونوں شاگردوں کی روایتیں نقل کی ہیں ۔ لہذا ان کی مراد اس لفظ سے یہ ہے کہ اس کا حال معلوم نہیں ۔ یعنی اصطلاح محدثین میں وہ مستور ہے (رکعات ص ۸۱) ۔ ج : ہم نہیں کہہ سکتے کہ مولانا مئوی کے عقیدت مندوں کا حلقہ علم و فہم کے اعتبار سے کس معیار کا ہے کہ وہ کھلی ہوئی غلط بیانی کرتے ہوئے اپنے حلقے سے بھی نہیں شرماتے ۔ غور کیجئے ایک طرف تو مولانا نے لا یعرف کا مغالطہ آمیز ترجمہ یہ کیا کہ ’’وہ معروف و مشہور نہیں ہے‘‘ اور دوسری طرف ایک ہی سطر کے بعد اس لفظ کی مراد یہ بتائی کہ’’اس کا حال معلوم نہیں‘‘ انصاف سے کہیے کیا ان دونوں جملوں کا مدلول و مفہوم ایک ہی ہے ؟ اہل علم سمجھ سکتے ہیں کہ نیموی مرحوم نے ’’شہرت‘‘ کی نفی نہیں کی ہے بلکہ ’’معرفتہ‘‘ (علم) کی نفی کی ہے ۔ اس لئے اس کا صحیح ترجمہ یہ ہے کہ ’’وہ نامعلوم ہے‘‘ اور ’’علم‘‘ کی یہ نفی اپنے عموم و اطلاق کے اعتبار سے ابوالحسناء کی ذات اور اس کے احوال دونوں کو شامل ہے لہذا مولانا نیموی کی مراد یہ ہے کہ نہ اس کی ذات معلوم ہے اور نہ اس کے احوال معلوم ہیں اور واقعہ بھی یہی ہے جیسا کہ ہم نے بتایا کہ کتب رجال اس کے ذکر سے بالکل خالی ہیں ۔ اس کے بعد آپ سے آپ ثابت ہو جاتا ہے کہ جن دو شخصوں کو مولانا مئوی ابوالحسناء کا ’’شاگرد‘‘ قرار دے رہے ہیں یہ محض ان کا وہم ہے ۔ کتب رجال سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے ۔ لہذا اس بنیاد پر جو عمارت کھڑی کی گئی ہے ، اس کا حال بھی معلوم ۔ مولانا شوق نیموی نے جو روایتیں نقل کی ہیں وہ لفظ ’’عن‘‘ کے

  • فونٹ سائز:

    ب ب