کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 304

اور ان دونوں کا نام مستور نہیں ہے جیسا کہ ابن الصلاح وغیرہ کی عبارتوں میں اس کی صراحت موجود ہے شرح نخبہ کے محشی نے بھی اس پر متنبہ کر دیا ہے ۔ چنانچہ حاشیہ میں ہے : الظاهر انه ادرج فیه قسمی المجهول الحال و سمی کلا منهما مستور او ان کان ابن الصلاح وغیرہ سهی الاخیر مستور الوجود المستر فی کل منهما وهما مجهول العدالة الظاهرة والباطنة ومجهول العدالة الباطنة دون الظاهرة والمراد بالباطنة ما فی نفس الامر وهی التی ترجیع الی اقوال المزکین وبالظاهرة ما یعلم من ظاهر الحال انتهی (شرح نخبہ ص ۷۱ حاشیہ ص ۲) یہ حاشیہ چونکہ مولانا مئوی کے مقصد کے خلاف تھا اس لئے انہوں نے جان بوجھ کر اس سے آنکھیں بند کر لیں ۔ یہ حاشیہ ملا علی قاری کی شرح سے ماخوذ ہے ۔ دیکھو شرح للقاری ص ۱۵۴ ۔ خیر یہ معاملہ تو پھر بھی اہون ہے ۔ اس کے بعد تو مولانا مئوی نے تحریف و خیانت کا وہ افسوس ناک مظاہرہ کیا ہے کہ ’’قادیانی‘‘ بھی منہ تکتے رہ جائیں ۔ لکھتے ہیں : ’’اور مستور کی روایت کو رد کرنے پر ائمہ کا اتفاق نہیں ہے بلکہ اس میں اختلاف ہے ۔ حافظ ابن حجر نے فرمایا ہے قد قبلہ جماعۃ بغیر قید یعنی ایک جماعت نے اس کو بغیر کسی قید کے قبول کیا ہے اس کے بعد جمہور کامذہب یہ بتاتا ہے کہ مستور کی روایت نہ مقبول ہے نہ مردود ، بلکہ حال ظاہر ہونے تک اس میں توقف کیا جائے گا … (کعات ص ۸۱) ۔ حافظ کے کلام میں صریح تحریف اور خیانت مولانا نے اس موقع پرحافظ ابن

  • فونٹ سائز:

    ب ب