کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 307

پس ابو الحسناء بالفرض اگر مستور بھی ہو تو حنفیہ کے اصول کی رو سے اس کی روایت ہرگز حجت کے قابل نہیں ہے بلکہ اس کا حکم وہی ہے جو فاسق راوی کا ہے۔ خیر یہ تو ضمنی باتیں تھیں ، اصل مقصد یہ ہے کہ حافظ ابن الصلاح، امام نووی ،علامہ سیوطی،حافظ ابن کثیر جیسے اکابر کی تفصیل وبیان کے بموجب جب ابوالحسناء محدثین کی اصطلاح مین مستور نہیں ہے تو جس طرح بجائے خود اس کی روایت قابل قبول نہیں ہو سکتی ۔ لہذا مولانا مئوی کا زعم باطل ہے کہ ابو عبدالرحمٰن سلمی کی متابعت کی وجہ سے یہ روایت مقبول ہے۔ قولہ: حافظ صاحب نے ابو الحسناء کی روایت کے منقطع ہونے کا بھی شبہ ظاہر کیا ہے۔۔۔۔۔۔ رجال میں پوری مہارت نہ ہونے کی وجہ سے یا کامل غور وفکر نہ کرنے سے حافظ صاحب کو یہ شبہ ہو گیاہے ورنہ یہ دونوں دوابوالحسناء ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رکعات ص ۷۹و۸۰ ج: مولانا مئوی نے رجال میں اپنی پوری مہارت دکھانے کے لیے،یا یہ کہیے کہ کامل غوروفکر کرنے کا ثبوت دینے کے کیے اس بات پر بڑا زور لگایا ہے کہ تقریب وغیرہ رجال کی کتابوں میں جس ابوالحسناء کا ذکر ہے اور جس کے حق میں حافظ ابن حجر نے مجہول اور حافظ ذہبی نے لا یعرف کی تصریح کر دی ہے۔وہ اور یہ ابوالحسناء جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زیر بحث اثر کا راوی ہے اور جس میں ہم گفتگو کر رہے ہیں ۔یہ دونوں دوابوالحسناء ہیں اور ان دونوں کو دو الگ الگ راوی ثابت کرنے کا منشا دراصل یہ ہے کہ کسی طرح حا فظ ابن حجر رحمہ اللہ اور حافظ ذہبی کی جرحوں سے جان چھوٹ جائے۔لیکن یہاں تو اِدھر ٹانکا ادھر اُدھڑا والا معاملہ ہے۔ مولانا کی جان جس ضیق میں پھنس گئی ہے۔اب اس سے نکلنا مشکل ہے۔ اگر بالفرض ہم یہ مان بھی لیں کہ یہ دو ابوالحسناء ہیں تب بھی حافظ صاحب کا اصل شبہ اپنی جگہ جون کا توں قائم رہے گا۔اس لیے کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اثر کے راوی ابوالحسناء کی روایت لفظ عن اور ان کے ساتھ ہے تو جب تک ابو سعد بقال اور عمروبن قیس کے ساتھ اور اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس ملاقات وسماع یا کم ازکم معاصرت کتب رجال سے آپ اپنی پوری مہارت کے زور سے یا کامل غوروفکر کرکے ثابت نہ کر دیں گے اس وقت تک اس اثر کے منقطع ہونے کا شبہ قطعاً باقی رہے گا اور اس کا کوئی جواب آپ کے پاس نہیں ہے۔ولو کان بعضکم لبعض ظهیرا.

  • فونٹ سائز:

    ب ب