کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 31

 بعد ہی حضرت عائشہ کی وہ روایت لائے ہیں جس میں رکعات کی تعداد کا بیان ہے اور وہ وہی روایت ہے جس کو ہم نے آٹھ رکعتوں کے ثبوت میں ’’ پہلی حدیث ‘‘ کے عنوان سے نقل کیا ہے ۔ امام محمد رحمہ اللہ رحمۃ اللہ علیہ کے اس صینع سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ انہوںنے پہلے تراویح کی جماعت کا مسنون ہونا ثابت کیا ہے ۔ ا سکے بعد مع وتر اس کی گیارہ رکعتوں کا ’’ سنت نبوی‘‘ ہونا ثابت کیا ہے ۔ یہ اس امام کی شہادت ہے جن کا شمار حنفی مذہب کے بانیوں میں ہے ۔ (۲) ابن الہمام نے فتح القدیر شرح ہدایہ میں فریقین کے دلائل ذکر کئے ہیں۔ بیس رکعت والی مرفوع روایت کو ضعیف قرار دیا ہے ۔ اس کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا روایت کی بنا پر یہ تسلیم کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت تو معع وتر گیارہ ہی رکعات ہیں ۔ ہاں خلفائے راشدین کی سنت بیس رکعات ہیں ۔ لکھتے ہیں : فتحصل من هذا کله ان قیام رمضان سنة احدی عشرة رکعة بالوتر فعله صلی اللہ علیہ وسلم وترکه لعذر افاد انه لو لا خشیة ذالک لو اطبت بکم ولا شک فی تحقق الا من من ذالک بوفاته صلی اللہ علیہ وسلم فیکون سنة وکونها عشرین سنة الخلفاء الراشدین ۔ (فتح القدیر جلد اوّل ص ۳۳۴ طبع مصر ) (تنبیہہ) بیس رکعات کے سنت خلفائے راشدین ہونے کی تحقیق آئندہ آئے گی یہاں ہمارا مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ ابن ہمام وغیرہ علماء حنفیہ بھی آٹھ ہی رکعت کے سنت نبوی ہونے کے قائل ہیں ۔ بیس رکعت کو سنت نبوی وہ بھی نہیں کہتے ۔ فانهم ۔ ولا تکن من القاصرین ۔ (۳) بحر الرائق کے حوالہ سے ابن نجیم کا قول گزر چکا کہ شیخ ابن ہمام کی بات کو انہوں نے بھی بلاانکار نقل کیا ہے او رمان لیا ہے کہ وقد ثبت ان ذالك کان احدی عشرة ركعة بالوتر کما ثبت فی الصحیحین من حدیث عائشة ۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب