کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 316

مولانا مئوی کی ان چھپی ہوئی ’’چالاکیوں‘‘ کے چہرے سے نقاب اٹھا دینے کے بعد اب ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اصحاب خاص اور شاگردوں کا بیس رکعتیں پڑھنا بقول آپکے’’زبردست دلیل ہے اس بات کی کہ انہوں نے یقینا بیس کا حکم دیا تھا‘‘۔ (رکعات ص۸۳)تو اسی روایت میں جن دوسرے عملوں کا ذکر ہے ان کے متعلق بھی تو یہ زبردست دلیل ہے اس بات کی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انکا بھی یقینا حکم دیا تھا؟ مثلاً (الف) آخری عشرہ میں بیس سے زیادہ رکعتیں جماعت سے ادا کرنا (مگر حنفی مذہب میں یہ مکروہ ہے بلکہ بعض کے قول کے مطابق تو بدعت ضلالت ہے۔ جس کا حوالہ اس کتاب کے شروع میں ہم بتا چکے ہیں) (ب)رمضان کے صرف نصف آخر میں قنوت پڑھنا (مگر احناف رمضان بھر بلکہ رمضان کے علاوہ بھی ہمیشہ قنوت پڑھنے کے قائل ہیں) (ج)تراویح میں دو مرتبہ قرآن مجید ختم کرنا (مگر مشائخ حنفیہ صرف ایک مرتبہ ختم کرنے کو سنت کہتے ہیں)

  • فونٹ سائز:

    ب ب